غذائی استحکام کے چیلنجزسے نمٹنے کیلئے جدید زرعی طریقہ کار اور مشینی زراعت کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ممتاز خاں منیس

فیصل آباد ۔ 08 فروری (اے پی پی):سابق صوبائی وزیر برائے لائیو سٹاک اور ترقی پسند کاشتکار ممتاز خاں منیس نے کہا ہے کہ زرعی اراضی میں مسلسل کمی، فی ایکڑ پیداوار اور غذائی استحکام کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید زرعی طریقہ کار اور مشینی زراعت کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ پیداواریت میں اضافے کے ساتھ ساتھ زرعی ترقی کا نیا باب مرتب کیا …

فیصل آباد ۔ 08 فروری (اے پی پی):سابق صوبائی وزیر برائے لائیو سٹاک اور ترقی پسند کاشتکار ممتاز خاں منیس نے کہا ہے کہ زرعی اراضی میں مسلسل کمی، فی ایکڑ پیداوار اور غذائی استحکام کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید زرعی طریقہ کار اور مشینی زراعت کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ پیداواریت میں اضافے کے ساتھ ساتھ زرعی ترقی کا نیا باب مرتب کیا جا سکے۔ وہ منیس فارمز کے دورے پر آئے ہوئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ وفد کی قیادت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کی۔

وفد نے ماڈل فارم پر موجود مختلف شعبہ جات بشمول کینو کے باغات، کپاس، پیاز اور گندم کے کھیت،لائیو سٹاک اور فشریز،بائیو گیس پلانٹس اور جدید زرعی مشینری کا معائنہ کیا ممتاز خاں منیس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کسان کا بیٹا کسان نہیں بننا چاہتا۔ انہوں نے زور دیا کہ مشینی زراعت کو فروغ دے کے وسائل کی بچت، پیداوار میں اضافے اور کیڑے مکوڑوں پر قابو پا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا ماہرین ٹھوس پالیسی سازی سفارشات تیار کریں جو زرعی خوشحالی کا پیش خیمہ ثابت ہوں۔

انہوں نے کہا کہ زرعی علوم کے طلبہ کو فیلڈ میں بھی لازمی تربیت دی جائے تاکہ وہ کسانوں کے حقیقی مسائل سے آگاہ ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چار موسموں کی نعمت سے مالا مال ہے مگر ہم اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حلال گوشت کی عالمی مارکیٹ 300 ارب ڈالر ہے، جبکہ پاکستان کا حصہ صرف 300 ملین ڈالر ہے، جسے بڑھا کر معیشت کومزید بہترکیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پروائس چانسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے منیس فارم کوکسانوں کے لیے ایک رول ماڈل فارم قرار دیا جہاں جدید ٹیکنالوجی کو اپنا کر پیداوار میں اضافے کو یقینی بنایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو جی ڈی پی میں 23 فیصد حصہ رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا زمین کی صحت کی بحالی اور بڑھتی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اختراعی مداخلت ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، جدید تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ہنرمند افرادی قوت پیدا کرنے کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔وفد میں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے سربراہان اور ماہرین شامل تھے .

جن میں ڈاکٹر شاہد محمود، ڈاکٹر بابر شہباز، ڈاکٹر راؤ زاہد عباس، ڈاکٹر آصف کامران، ڈاکٹر عظیم اقبال، ڈاکٹر احمد ستار، ڈاکٹر وسیم اکرم، ڈاکٹر ندیم اکبر، ڈاکٹر محمد تحسین اظہر، ڈاکٹر انوار الحق، ڈاکٹر عبدالرحمٰن، ڈاکٹر زین العابدین، ڈاکٹر افتخار احمد، ڈاکٹر محمد اسلم، ڈاکٹر محمد شریف، ڈاکٹر ندیم عباس، ڈاکٹر حماد بدر، ڈاکٹر محمد نوید، ڈاکٹر شافیہ گل، ڈاکٹر بشریٰ سعدیہ، ڈاکٹر حمیرا رزاق، ڈاکٹر راشد رسول، ڈاکٹر مزمل، ڈاکٹر فہد رشید، ڈاکٹر محمد اعظم، ڈاکٹر وسیم، ڈاکٹر صدام حسین، ڈاکٹر عتیق، ڈاکٹر فرقان اصغر اور دیگر موجود تھے۔ٹیم نے فارم پر اپنائے گئے جدید طریقوں کو سراہا اور اسے زراعت کو منافع بخش شعبہ بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم قرار دیا۔