اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو قومی ترقی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور جامع اصلاحات کے لئے وائس چانسلرز پر مشتمل متعدد کمیٹیاں قائم کر دی ہیں جو آئندہ پانچ برسوں کے لئے ایک جامع اصلاحاتی روڈ میپ تیار کریں گی۔یہ فیصلہ حال ہی میں ایچ ای سی میں منعقدہ وائس چانسلرز اجلاس میں کیا گیا …
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو قومی ترقی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے کمیٹیاں قائم کر دیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔2مارچ (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو قومی ترقی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور جامع اصلاحات کے لئے وائس چانسلرز پر مشتمل متعدد کمیٹیاں قائم کر دی ہیں جو آئندہ پانچ برسوں کے لئے ایک جامع اصلاحاتی روڈ میپ تیار کریں گی۔یہ فیصلہ حال ہی میں ایچ ای سی میں منعقدہ وائس چانسلرز اجلاس میں کیا گیا جس میں اسلام آباد، راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں کی تقریباً 40 جامعات کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کی۔
اجلاس میں طے پایا کہ قائم کی گئی کمیٹیاں قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی بنیادوں پر اعلیٰ تعلیمی شعبے کی ترقی سے متعلق سفارشات مرتب کر کے اپنی رپورٹس ایچ ای سی کو پیش کریں گی۔ اہم توجہ ہنر پر مبنی نصاب کے جامع جائزے، ادارہ جاتی خودمختاری کے فروغ اور ٹرپل ہیلکس ماڈل کے نفاذ پر مرکوز ہوگی تاکہ جامعات، صنعت اور حکومت کے مابین روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔اجلاس میں ابھرتے ہوئے مضامین کے لئے نئے ایکریڈیٹیشن کونسلز کے قیام کو بھی ترجیح قرار دیا گیا جن میں ذہنی صحت و نفسیات، مصنوعی ذہانت، بحری علوم اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ فیکلٹی کی پیشہ وارانہ ترقی اور ٹینیور ٹریک سسٹم (ٹی ٹی ایس) کی تنخواہوں پر سٹریٹجک نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ باصلاحیت اساتذہ کو ملک میں ہی بہتر مواقع فراہم کئے جا سکیں اور برین ڈرین کی حوصلہ شکنی ہو۔وائس چانسلرز نے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو درپیش چیلنجز، بالخصوص ادارہ جاتی نظم و نسق اور معیار سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ہنر پر مبنی تعلیم کے فروغ، تعلیمی پروگرامز کے معیار میں بہتری، تحقیق کے لئے فنڈنگ میں اضافے اور تحقیقی پیداوار بڑھانے کے لئے حکومتی و صنعتی روابط کو مستحکم بنانے اور جامعات کی بین الاقوامیت کو فروغ دینے کی تجاویز پیش کی گئیں۔
اجلاس میں طلبہ کی رہنمائی کے لئے ایک مرکزی ڈیجیٹل بینک (ریپوزٹری) قائم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی جہاں طلبہ مختلف کیریئر راستوں سے متعلق معلومات حاصل کر سکیں گے۔ مزید برآں ،آڈٹ اور خریداری کے طریقہ کار کو سادہ بنانے، ڈوئل ڈگری پروگرامز کے اجراء اور بین الاقوامی معیار کے مطابق طلبہ کے لئے معیاری جائزہ نظام متعارف کرانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل اعلیٰ تعلیم کے فروغ سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی طالب علم کم سرکاری اخراجات کے باوجود پاکستانی جامعات کی کارکردگی قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے وائس چانسلرز کو یاد دلایا کہ جامعات علم کی تخلیق، نوجوانوں کی کردار سازی اور قومی تعمیر کے مراکز ہیں، اس لئے ان کی ذمہ داریاں نہایت اہم اور کٹھن ہیں۔
چیئرمین ایچ ای سی نے طلبہ کے داخلہ تناسب میں اضافے اور فارغ التحصیل گریجویٹس کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامعات کو اپنے گریجویٹس کا ڈیٹا محفوظ کرنے کا مؤثر نظام قائم کرنا ہوگا تاکہ ان کی ملازمت کے مواقع اور مارکیٹ میں کھپت کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اسی سمت میں عملی اقدامات کئے جائیں گے۔








