اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ،جس میں بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (آئی ایف اے ڈی ) کے وفد نے شرکت کی۔ وفد کی قیادت فرنینڈا تھوماز دا روچا، کنٹری ڈائریکٹر (ایشیا) کر رہی تھیں جبکہ کنٹری پروگرام کوآرڈینیٹر غلام نبی مری بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اجلاس میں پاکستان …
پاکستان اور آئی ایف ڈی اے کے درمیان زرعی ترقی، غذائی تحفظ اور دیہی خوشحالی کے فروغ کیلئے تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ،جس میں بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (آئی ایف اے ڈی ) کے وفد نے شرکت کی۔ وفد کی قیادت فرنینڈا تھوماز دا روچا، کنٹری ڈائریکٹر (ایشیا) کر رہی تھیں جبکہ کنٹری پروگرام کوآرڈینیٹر غلام نبی مری بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اجلاس میں پاکستان میں پائیدار زرعی ترقی، دیہی معیشت کی بہتری اور غربت کے خاتمے کے لئے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان آئی ایف اے ڈی کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے جو 1979 سے جاری ہے اور وقت کے ساتھ ایک مضبوط اور مؤثر ترقیاتی تعاون میں تبدیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے آئی ایف اے ڈی کی جانب سے پاکستان کے مختلف دیہی علاقوں میں کیے جانے والے ترقیاتی اقدامات کو سراہا جنہوں نے لاکھوں افراد کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کئے ہیں۔ انہوں نے خصوصاً گلگت بلتستان اور سندھ کے ساحلی اضلاع سجاول، بدین اور ٹھٹھہ میں آئی ایف اے ڈی کے منصوبوں کو دیہی ترقی کے اہم ماڈلز قرار دیا۔وفاقی وزیر نے روم کے اپنے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایف اے ڈی کی قیادت کے ساتھ ان کی ملاقاتیں انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز خصوصاً موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کی ضرورت کے پیش نظر آئی ایف اے ڈی کی مالی اور تکنیکی معاونت کو مزید وسعت دینا ناگزیر ہے۔
انہوں نے دیہی معیشت کی مضبوطی، ویلیو چین کی ترقی اور جدید و موسمیاتی لحاظ سے محفوظ زرعی طریقوں کے فروغ کے لئے نئے منصوبوں کے آغاز میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔رانا تنویر حسین نے آئی ایف اے ڈی کی اس سٹریٹجک ترجیح کو سراہا جس کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو بااختیار بنایا جاتا ہے، دیہی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جاتے ہیں اور موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں دیہی معیشت کی مضبوطی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایف اے ڈی کا ترقیاتی ماڈل جو رعایتی مالی معاونت، کمیونٹی پر مبنی ترقی اور شمولیتی ترقی پر مبنی ہے، پاکستان کی قومی ترقیاتی ترجیحات سے مکمل ہم آہنگ ہے۔ کنٹری ڈائریکٹر (ایشیا) آئی ایف اے ڈی فرنینڈا تھوماز دا روچا نے کہا کہ پاکستان ادارے کے لئے انتہائی اہم شراکت دار ملک ہے اور آئی ایف ڈی اے کے عالمی پورٹ فولیو میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایف ڈی اے اس وقت پاکستان میں متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے اور حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر دیہی ترقی کے مختلف اقدامات کی مالی و تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایف ڈی اے کا بنیادی فوکس زرعی پیداوار میں اضافہ، کسانوں کو منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرنا، دیہی نوجوانوں کے لئے روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرنا اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے خلاف دیہی علاقوں کی مزاحمت کو مضبوط بنانا ہے۔
کنٹری پروگرام کوآرڈینیٹر غلام نبی مری نے جاری منصوبوں خصوصاً نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام (این پی جی پی) کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے ان منصوبوں کے نچلی سطح تک اثرات اور وسیع عوامی رسائی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لئے مسلسل تعاون، جدید حکمت عملی اور مالی معاونت کی ضرورت ہے۔پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی ) کے چیئرمین نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور آئی ایف ڈی اے کے ساتھ سنٹر آف ایکسیلنس کے تحت تعاون بڑھانے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے زرعی تحقیق، جدت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد کار میں اضافے کے لئے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدن میں بہتری لائی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر حکومتِ پاکستان اور آئی ایف ڈی اے کے درمیان اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جاری منصوبوں کو وسعت دی جائے گی اور نئے شعبوں میں اشتراک کے مواقع تلاش کئے جائیں گے تاکہ پائیدار زرعی ترقی، غذائی تحفظ اور دیہی خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکے۔









