پاکستان نے مخالفین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ،سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان
پاکستان نے مخالفین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ،سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اپریل (اے پی پی):سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی قد و کاٹھ کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اعتماد کی بحالی اور مخالفین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو دہشتگردی کا طعنہ دینے والے بھارت کے لیے عالمی امن پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما سینیٹر شیری رحمان نے ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران اور امریکا کو جنگ سے مذاکرات کی میز پر لانے کے حوالہ سے پاکستان کی سفارتی فتح کو سراہا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دونوں ممالک کیلئے اپنے بنیادی مفادات کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہر ملک اپنے عوامی تشخص کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امن مذاکرات کے لیے دونوں فریقین کی میزبانی میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنائے گا کہ دونوں ممالک کے تحفظات سنے جائیں، اعتماد کو برقرار رکھا جائے اور تعمیری بات چیت کو فروغ دیا جائے۔ شیری رحمان نے مصر، ترکیہ ، سعودی عرب اور چین جیسے ممالک کی حمایت کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی قیادت مخالف دو ممالک کو مژاکرات کی میز پر لانے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارت کاری نے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں دونوں فریق اپنی بنیادی پوزیشنز پر سمجھوتہ کیے بغیر پرامن طریقے سے بات چیت کر سکتے ہیں۔
شیری رحمٰن نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جاری امن مذاکرات ایک اہم کامیابی ہے، دونوں متحارب ممالک اب ایک ہی میز پر ہیں جو عالمی سفارت کاری میں پاکستان کی قیادت کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت، جو کبھی پاکستان کو "دہشت گردوں کا مرکز” قرار دیتا تھا، اب اپنی ناکام سفارت کاری کے نتائج بھگت رہا ہے۔
شیری رحمان نےامن و امان کیلئے پاکستان کے کردار کو قبول کرنے کے حوالہ سے بھارتی ناکامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اب پاکستان کی سفارتی کوششوں میں مثبت تبدیلی کو تسلیم کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے اپنی گفتگو کا اختتام کیا کہ پاکستان کی معاونت سے دونوں متحارب ممالک باہمی اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی بات چیت جاری رکھیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ امن مذاکرات تعمیری طور پر آگے بڑھیں گے۔








