وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک بالخصوص پاکستان میں معاشی ترقی کے حقیقی امکانات کو بروئے کار لانے کے لیے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان موثر اشتراک ناگزیر ہے۔
پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں،سیف الرحمان

مزید خبریں
لاہور۔19اپریل (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک بالخصوص پاکستان میں معاشی ترقی کے حقیقی امکانات کو بروئے کار لانے کے لیے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان موثر اشتراک ناگزیر ہے۔ریاستی سطح پر انفراسٹرکچر کی ترقی اور نجی شعبے کی کارکردگی و جدت کو یکجا کر کے تیز رفتار اور پائیدار معاشی نمو حاصل کی جا سکتی ہے۔اتوار کو یہاں پبلک پرائیویٹ سیکٹر انویسٹمنٹ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب انفراسٹرکچر اور قدرتی وسائل میں حکومتی سرمایہ کاری نجی سرمایہ کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے تو اس کے دور رس معاشی فوائد سامنے آتے ہیں۔اس عمل کے ذریعے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں بلکہ خدمات کی فراہمی میں بھی بہتری آتی ہے اور برآمدات کے امکانات بھی بڑھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ توانائی، معدنیات، ٹرانسپورٹ اور آبی وسائل جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں،تاہم ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے شفاف ریگولیٹری نظام اور پالیسیوں کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔نجی شعبے کی حوصلہ افزائی سے نہ صرف مالی وسائل میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی،بہتر انتظامی صلاحیت اور عالمی معیار کے طریقہ کار بھی ملک میں متعارف ہوتے ہیں۔سیف الرحمان نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان توازن پر مبنی حکمت عملی ہی دیرپا اور جامع اقتصادی ترقی کی ضامن بن سکتی ہے۔شفافیت، احتساب،منصفانہ ٹیکس پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنا اس عمل کی کامیابی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔








