سینیٹ کی سب کمیٹی کا ایم ڈی کیٹ پالیسی فریم ورک پر جامع نظرثانی کا مطالبہ، شفافیت اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت پر زور

سینیٹ کی سب کمیٹی کا ایم ڈی کیٹ پالیسی فریم ورک پر جامع نظرثانی کا مطالبہ، شفافیت اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت پر زور

اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری کی سب کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر انوشہ رحمان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں آئندہ ایم ڈی کیٹ 2026 کے انتظامات، موجودہ ایم ڈی کیٹ پالیسی فریم ورک، ملک بھر میں میڈیکل داخلوں کے نظام میں یکسانیت لانے کے لیے مجوزہ اصلاحات اور ایم ڈی کیٹ فیسوں کے تعین میں شفافیت سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے شرکت کی جبکہ سینیٹر آغا شاہزیب درانی نے زوم کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔کمیٹی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کی جانب سے جاری کیے گئے حالیہ اشتہار کا جائزہ لیا، جس کے تحت بیرونِ ملک ایم بی بی ایس میں داخلہ لینے والے طلبہ کے لیے ایم ڈی کیٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

کمیٹی اراکین نے اس فیصلے کی قانونی بنیاد پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس کے لیے واضح قانونی جواز کمیٹی میں پیش کیا جائے۔کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ ایسے اقدامات اس وقت مزید تشویش کا باعث بنتے ہیں جب ملک کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں اس وقت 743 نشستیں خالی موجود ہیں۔ پی ایم اینڈ ڈی سی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو غیر معیاری غیر ملکی طبی اداروں میں داخلے سے روکنا ہے تاہم کمیٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ ایم ڈی کیٹ کو لازمی قرار دینے سے غیر معیاری غیر ملکی طبی اداروں میں داخلوں کی حوصلہ شکنی کس حد تک ممکن ہوگی۔ کمیٹی نے یہ بھی استفسار کیا کہ طلبہ اور والدین کی رہنمائی کے لیے غیر معیاری غیر ملکی میڈیکل اداروں کی فہرست کیوں جاری نہیں کی جاتی۔ کمیٹی کا مؤقف تھا کہ بیرونِ ملک طبی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کے لیے ایم ڈی کیٹ کو لازمی قرار دینے کے فیصلے پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہے۔

سب کمیٹی نے پی ایم اینڈ ڈی سی اور سیکرٹری وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری کو ہدایت کی کہ وہ وہ تمام قانونی دستاویزات اور قواعد کمیٹی کے سامنے پیش کریں جن کی بنیاد پر بیرونِ ملک طبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایم ڈی کیٹ کو لازمی قرار دیا گیا۔کمیٹی نے تجویز دی کہ پی ایم اینڈ ڈی سی غیر معیاری غیر ملکی میڈیکل کالجوں اور جامعات کی فہرست شائع کرے تاکہ طلبہ اور والدین کو بہتر رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بعض ضابطہ جاتی اقدامات طلبہ کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا کر رہے ہیں اور اس سے نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔اجلاس میں ایم ڈی کیٹ کے ویٹیج اور اے لیول کے طلبہ کو داخلوں کے عمل میں درپیش مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اراکین نے نشاندہی کی کہ ایم ڈی کیٹ کا نصاب بڑی حد تک انٹرمیڈیٹ کے نصاب سے مطابقت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اے لیول کے طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کمیٹی نے خالی نشستوں کی موجودگی کو موجودہ پالیسی فریم ورک کی بعض خامیوں سے جوڑتے ہوئے جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستان میں طبی تعلیم کی لاگت بعض ممالک خصوصاً چین کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، جہاں یہی تعلیم نسبتاً کم لاگت پر حاصل کی جا سکتی ہے۔بریفنگ کے دوران حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ زیادہ تر خالی نشستیں ڈینٹل کالجوں میں موجود ہیں۔ کمیٹی نے بعض ممالک میں پاکستان کی ڈینٹل ڈگریوں کو درپیش عدم قبولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈینٹل تعلیم کے معیار کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

کمیٹی کو ایم ڈی کیٹ امتحانی فیسوں کی وصولی، ان کے استعمال اور آڈٹ کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر سب کمیٹی نے موجودہ ایم ڈی کیٹ پالیسی کے متعدد پہلوؤں سے اختلاف کرتے ہوئے اس کی جامع نظرثانی اور اصلاح کے عمل میں تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کرنے کی سفارش کی۔ سب کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایک عوامی سماعت منعقد کی جائے جس میں طلبہ، طبی ماہرین اور میڈیکل جامعات کے وائس چانسلرز کو مدعو کیا جائے تاکہ میڈیکل داخلوں کے نظام سے متعلق دیرینہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر پالیسی اور قانون سازی کی تجاویز مرتب کی جا سکیں۔