مشرقِ وسطی بحران پاکستان کے لیے چیلنجز کے ساتھ نئے معاشی مواقع بھی لایا ہے، میاں کاشف اشفاق

مشرقِ وسطی بحران پاکستان کے لیے چیلنجز کے ساتھ نئے معاشی مواقع بھی لایا ہے، میاں کاشف اشفاق

لاہور۔19اپریل (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطی میں جاری بحران اگرچہ تشویشناک ہے،تاہم درمیانی اور طویل مدت میں یہ پاکستان کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اتوار کے روز بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے فوری طور پر نکلنا ممکن نہیں،لیکن اگر درست حکمت عملی اپنائی جائے تو پاکستان مستقبل میں اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش بیرونی معاشی دبائو سے نمٹنے کے لیے فوری اصلاحات،مالیاتی شعبے میں بہتر ہم آہنگی اور توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب پیش رفت نا گزیر ہے۔

میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ میکرو اکنامک سطح پر توانائی کی فراہمی میں خلل اور عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ سب سے بڑے خطرات ہیں،جو کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔انہوں نے ترسیلاتِ زر کو بھی ایک ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فی الحال یہ مستحکم ہیں، تاہم طویل تنازع خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات کو متاثر کر سکتا ہے،جو پاکستان کی کل ترسیلات کا تقریبا 55 فیصد حصہ ہیں اور اس سے کرنٹ اکاونٹ خسارہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں ممکنہ تعمیر نو کی سرگرمیوں سے پاکستانی افرادی قوت، خصوصا ہنر مند اور نیم ہنر مند مزدوروں کی طلب میں اضافہ ہوگا،جس سے ترسیلاتِ زر میں بہتری آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھائے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرے اور علاقائی تجارت و تعمیر نو کے امکانات سے بھرپور استفادہ کرے تو ملک ایک مضبوط معاشی پوزیشن کے ساتھ ابھر سکتا ہے۔

 

مزید خبریں