وفاقی آئینی عدالت نے سیکشن 7 ای کی آئینی حیثیت پر فیصلہ محفوظ کر لیا
وفاقی آئینی عدالت نے سیکشن 7 ای کی آئینی حیثیت پر فیصلہ محفوظ کر لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔30اپریل (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 7 ای کی آئینی حیثیت سے متعلق اہم مقدمے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، یہ مقدمہ غیر منقولہ جائیداد سے منسوب تصوراتی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کے قانونی و آئینی پہلوؤں سے متعلق ہے جس پر فریقین نے آئینی دائرہ اختیار، قانونی اصولوں اور ٹیکس پالیسی کے مختلف نکات پر تفصیلی دلائل پیش کئے۔
اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور سینئر وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے عدالت کے سامنے اپنے اپنے مؤقف تفصیل سے پیش کئے۔
درخواست گزاروں کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ دفعہ 7 ای دراصل غیر منقولہ جائیداد پر بالواسطہ ٹیکس ہے جسے انکم ٹیکس کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے جو پارلیمنٹ کے آئینی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق یہ شق بغیر کسی حقیقی آمدن کے محض فرضی یا تصوراتی آمدن کو ٹیکس کا موضوع بناتی ہے جو ٹیکس قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ مزید کہا گیا کہ یہ شق آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹیکس دہندگان کے درمیان غیر مساوی درجہ بندی پیدا کرتی ہے۔
وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے دفعہ 7 ای کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک جائز مالیاتی اقدام قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ شق آئین کے آرٹیکل 77 اور چوتھے شیڈول کی متعلقہ شق کے تحت پارلیمنٹ کے مکمل دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ حکومتی وکلاء نے مؤقف اپنایا کہ “تصوراتی آمدن” کا اصول ٹیکس قانون میں ایک تسلیم شدہ قانونی فکشن ہے جس کا مقصد معاشی استعداد کے مطابق ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور ٹیکس چوری کی روک تھام ہے۔
ایڈووکیٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے وفاق کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کا دو رکنی بنچ آئین اور سپریم کورٹ رولز 2025 کے تحت اس مقدمے کی سماعت کا مکمل اختیار رکھتا ہے لہٰذا بنچ کی تشکیل پر اٹھائے گئے اعتراضات قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی انتظامات ادارہ جاتی خودمختاری کا حصہ ہیں جنہیں آئینی حدود کے اندر رہ کر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 189 کے تحت عدالتی نظائر کی پابندی کے حوالے سے آئینی ڈھانچے میں ادارہ جاتی تبدیلی کے بعد نیا قانونی تناظر پیدا ہوا ہے جس کے مطابق سابقہ عدالتی فیصلے وفاقی آئینی عدالت پر لازمی طور پر بائنڈنگ نہیں بلکہ رہنمائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق آئینی تشریح کا اختیار نئے عدالتی ڈھانچے میں آزادانہ طور پر استعمال کیا جانا چاہئے۔دفعہ 7 ای کے آئینی جواز پر دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شق جائیداد پر براہِ راست ٹیکس نہیں بلکہ اس سے منسلک تصوراتی آمدن پر ٹیکس ہے، جو آئینی طور پر پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹیکس قانون میں قانونی مفروضہ ایک تسلیم شدہ اصول ہے جس کا مقصد مالیاتی نظام کو مؤثر بنانا ہے۔آرٹیکل 25 کے تحت مساوات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ٹیکس قوانین میں درجہ بندی کا وسیع اختیار مقننہ کو حاصل ہے بشرطیکہ اس کی معقول بنیاد موجود ہو اور دفعہ 7 ای اسی معیار پر پوری اترتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی پالیسی اور ٹیکس نظام کے معاملات میں عدالتوں کو محتاط رویہ اختیار کرنا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے دفعہ 7 ای کو آئینی طور پر درست قرار دیا ہے جبکہ بعض دیگر ہائی کورٹس نے اس کی قانونی نوعیت کو درست طور پر نہ سمجھتے ہوئے مختلف نتائج اخذ کئے ہیں۔تمام فریقین کے تفصیلی دلائل مکمل ہونے کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔








