منصفانہ توانائی منتقلی کیلئے کمزور طبقات کا تحفظ ناگزیر ہے، ڈاکٹر شزرہ منصب علی

وزیرِ مملکت برائےموسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شزرہ منصب علی خان کھرل نے کہا ہے کہ پاکستان میں منصفانہ اور پائیدار توانائی منتقلی کے لئے مربوط پالیسی سازی، مقامی وسائل کو متحرک کرنا، نجی سرمایہ کاری اور کمزور طبقات کا تحفظ ناگزیر ہے کیونکہ توانائی کا تحفظ اب معاشی استحکام اور قومی ترقی سے جڑ چکا ہے

اسلام آباد۔10مئی (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائےموسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شزرہ منصب علی خان کھرل نے کہا ہے کہ پاکستان میں منصفانہ اور پائیدار توانائی منتقلی کے لئے مربوط پالیسی سازی، مقامی وسائل کو متحرک کرنا، نجی سرمایہ کاری اور کمزور طبقات کا تحفظ ناگزیر ہے کیونکہ توانائی کا تحفظ اب معاشی استحکام اور قومی ترقی سے جڑ چکا ہے، محدود مالی گنجائش کے باوجود حقیقت پسندانہ، قابلِ عمل اور عوام دوست اصلاحات کے ذریعے ہی پاکستان صاف توانائی، معاشی استحکام اور موسمیاتی اہداف حاصل کر سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بات ”ماحولیاتی طور پر پائیدار معیشت کی جانب منتقلی کے دوران سماجی و معاشی خوشحالی“ کے موضوع پر منعقدہ پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کا اہتمام پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (یو این ای ایس سی اے پی) نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس موقع پر ایشیا و بحرالکاہل اقتصادی و سماجی سروے 2026 کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

ڈاکٹر شزرہ منصب علی خان کھرل نے کہا کہ توانائی منتقلی کو سماجی و معاشی ترقی سے ہم آہنگ کرناضروری ہے تاکہ پیداواری صلاحیت، قیمتوں میں استحکام اور جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری، بین الاقوامی موسمیاتی فنڈنگ اور جدید مالیاتی ذرائع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک منصفانہ اور قابلِ عمل توانائی نظام تشکیل دینا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامیاب توانائی منتقلی کے لئے وفاقی و صوبائی سطح پر موثر ہم آہنگی، سیاسی عزم اور علاقائی تعاون بھی ناگزیر ہے۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ پاکستان کو سبز توانائی کی جانب عالمی رجحان کو اپنی معاشی حکمتِ عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔ا

نہوں نے خبردار کیا کہ پالیسیوں میں عدم توازن سماجی و معاشی مسائل کو جنم دے سکتا ہے، اس لئے توانائی منتقلی کے دوران کمزور طبقات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔یو این ای ایس سی اے پی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حمزہ علی ملک نے کہا کہ اگرچہ ایشیا و بحرالکاہل خطہ عالمی اقتصادی ترقی میں 53 فیصد حصہ ڈال رہا ہے تاہم اسے جغرافیائی کشیدگی، مہنگائی اور سست معاشی نمو جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کو پالیسی ترجیحات کا حصہ بنایا جائے جبکہ صاف توانائی کے فروغ، علاقائی تعاون اور موثر اصلاحات کے ذریعے پائیدار معاشی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے نمائندہ ڈاکٹر سیموئیل رزق نے کہا کہ ترقیاتی اور موسمیاتی منصوبوں کے لئے صرف بیرونی مالی امداد پر انحصار کافی نہیں اس لیے مقامی وسائل کو متحرک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی منتقلی میں سرمایہ کاری معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔وزیراعظم آفس سے وابستہ ڈاکٹر شازیہ غنی نے کہا کہ محدود مالی وسائل، ٹیکنالوجی کی کمی اور موسمیاتی فنڈنگ تک رسائی میں مشکلات توانائی منتقلی کی بڑی رکاوٹیں ہیں اس لئے مرحلہ وار اور حقیقت پسندانہ اہداف اپنانا ضروری ہے۔

انہوں نے شمسی توانائی کے فروغ کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے اصلاحات پر موثر عملدرآمد پر زور دیا۔وزارتِ خزانہ کے اقتصادی مشیر راجہ محسن حسن نے کہا کہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مضبوط پالیسی اقدامات اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع، خصوصاً الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے، سے فائدہ اٹھانا وقت کی ضرورت ہے۔اختتامی خطاب میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ و ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے کہا کہ توانائی کا تحفظ اب قومی سلامتی کا اہم مسئلہ بن چکا ہے لہٰذا توانائی میں خودکفالت اور مضبوط نظام کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔