امریکی انتظامیہ اپنی نئی پالیسی کے تحت پاکستان پر بہت زیادہ دباﺅ ڈالنے سے گریز کرے، افغانستان میں بھارت کو زیادہ کردار دینے سے افغانستان میں امریکی اثر و رسوخ پرمنفی اثرات مرتب ہونا یقینی ہیں، سنگین مشکلات اور محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے مفید خفیہ معلومات فراہم کی ہیں، پاکستان نے امریکا کو طالبان اور القاعدہ کے جنگجوﺅں کو گرفتار اور ان کے خلاف لاجسٹک سپورٹ مہیا کی …
امریکا کے وڈرو ولسن انٹر نیشنل سینٹر فار سکالرز کی رپورٹ

مزید خبریں
امریکی انتظامیہ اپنی نئی پالیسی کے تحت پاکستان پر بہت زیادہ دباﺅ ڈالنے سے گریز کرے، افغانستان میں بھارت کو زیادہ کردار دینے سے افغانستان میں امریکی اثر و رسوخ پرمنفی اثرات مرتب ہونا یقینی ہیں، سنگین مشکلات اور محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے مفید خفیہ معلومات فراہم کی ہیں، پاکستان نے امریکا کو طالبان اور القاعدہ کے جنگجوﺅں کو گرفتار اور ان کے خلاف لاجسٹک سپورٹ مہیا کی ہے ، امریکا کے وڈرو ولسن انٹر نیشنل سینٹر فار سکالرز کی رپورٹ
واشنگٹن ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی) امریکا کے وڈرو ولسن انٹر نیشنل سینٹر فار سکالرز نے اپنی رپورٹ میں امریکی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ اپنی نئی پالیسی کے تحت پاکستان پر بہت زیادہ دباﺅ ڈالنے سے گریز کرے، افغانستان میں بھارت کو زیادہ کردار دینے سے افغانستان میں امریکی اثر و رسوخ پرمنفی اثرات مرتب ہونا یقینی ہیں، سنگین مشکلات اور محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے مفید خفیہ معلومات فراہم کی ہیں، پاکستان نے امریکا کو طالبان اور القاعدہ کے جنگجوﺅں کو گرفتار اور ان کے خلاف لاجسٹک سپورٹ مہیا کی ہے۔ یہ بات امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے دورہ پاکستان سے قبل پر آن لائن امریکی جریدے دی ہل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا بارے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسی جس میں انہوں نے افغانستان میں بھارت کے زیادہ بڑے پیمانے پر کردار کی ضرورت پر زور دیا ہے، نے پاکستان کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔امریکا کے وڈرو ولسن انٹر نیشنل سینٹر فار سکالرز کے ایشیا پروگرام سے وابستہ رابرٹ ہاتھاوے کی تیار کردہ رپورٹ میں امریکی انتظانیہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنی نئی پالیسی کے تحت پاکستان پر بہت زیادہ دباﺅ ڈالنے سے گریز کرے کیونکہ افغانستان میں بھارت کو زیادہ کردار دینے سے افغانستان میں امریکی اثر و رسوخ پر منفی اثرات مرتب ہونا یقینی ہیں، سنگین مشکلات اور محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے مفید خفیہ معلومات فراہم کی ہیں۔ یہ امریکی مطالبات ہی تھے جن کو پورا کرنے کی اہلیت نے پاکستان کو ان میں سے بعض مطالبات مسترد کرنے کی اہلیت دی اور یہ صورتحال برقرار ہے۔








