گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ سندھ طاس ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو کوئی بھی ایک فریق یک طرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا، بھارت اگر دریائے سندھ کا پانی روکے گا تو اس کاسب سے زیادہ نقصان بھارت کو ہی ہوگا۔
دریائے سندھ کا پانی رکا تو سب سے زیادہ نقصان بھارت کو ہی ہوگا۔ گورنر سندھ
کراچی۔ 15 مئی (اے پی پی):گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ سندھ طاس ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو کوئی بھی ایک فریق یک طرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا، بھارت اگر دریائے سندھ کا پانی روکے گا تو اس کاسب سے زیادہ نقصان بھارت کو ہی ہوگا۔ سید نہال ہاشمی نے قومی خبر رساں ادارے اے پی پی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کاش بھارتی وزیر اعظم پڑھا لکھا ہوتا تو اس بات کو بہتر سمجھتا اور انہیں اس بات کا ادراک ہوتا کہ دریائے سندھ ہزاروں برس سے بہتا رہا ہے اور اب بھی بہتا رہے گا اور اس کے بہاؤ کو کوئی روک نہیں سکتا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے پانی روکنے کی بات اپنے آپ کو خوش کرنے کے لئے کی ہے۔

سید نہال ہاشمی نے کہاکہ اس قسم کے بین الاقوامی معاہدوں سے باہر آنے کا بھی ایک طریقہ کار ہوتا ہے اور اس معاہدے میں میکینزم واضح کردیا گیا ہے کہ کن وجوہات اور کن حالات میں معاہدوں سے نکلا جاتا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تو نظر ثانی کرنے کی بھی پوزیشن میں نہیں ہے۔
گورنر سندھ نے بھارتی حکومت کو چیلینج کیا کی آپ دریائے سندھ کا پانی روک کر دکھائیں کیوں کے اس سے وہ اپنے ملک اور دنیا کا نقصان کریں گے۔ گورنر ہاشمی نے بھارتی وزیراعظم مودی سے مخاطب ہوکر کہا کہ عقل کے ناخن لیں اور ایک بار معاہدے کو پڑھ لیں جبکہ اس خطے کی تاریخ و جغرافیہ کو سمجھنے کی بھی کوشش کریں۔









