رواں سال کے دوسرے گرینڈ سلام فرنچ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں 14 مرتبہ کے چیمپئن رافیل نڈال کی رخصتی کے بعد، سپین کے 19 سالہ نوجوان کھلاڑی رافیل جوڈار نے اپنی شاندار کارکردگی سے ٹینس کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔
رافیل نڈال کے بعد ٹینس کی دنیا کو نیا ‘رافا’ مل گیا، رافیل جوڈار کافرنچ اوپن میں عمدہ کھیل جاری

مزید خبریں
پیرس۔2جون (اے پی پی):رواں سال کے دوسرے گرینڈ سلام فرنچ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں 14 مرتبہ کے چیمپئن رافیل نڈال کی رخصتی کے بعد، سپین کے 19 سالہ نوجوان کھلاڑی رافیل جوڈار نے اپنی شاندار کارکردگی سے ٹینس کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق گزشتہ سال دنیا میں 707 ویں رینکنگ پر موجود رافیل جوڈار نے اپنے پہلے ہی پیرس کلے کورٹ گرینڈ سلام کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے، جہاں ان کا مقابلہ جرمنی کے الیگزینڈر زویروف سے ہوگا۔ورجینیا یونیورسٹی کے سابق طالب علم رافیل جوڈار نے رواں سال مٹی کے کورٹ (کلے کورٹ) پر بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے 19 میچز جیتے ہیں، جو رواں سیزن میں کسی بھی کھلاڑی کی سب سے زیادہ فتوحات ہیں۔ انہوں نے چوتھے راؤنڈ میں ہم وطن کھلاڑی پابلو کارینو بسٹا کے خلاف 2 سیٹس کے خسارے میں ہونے کے باوجود شاندار واپسی کی اور 5 سیٹس کے مقابلے میں فتح حاصل کر کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کی ۔رافیل جوڈار کو ٹورنامنٹ میں 27 ویں سیڈ دی گئی ہے، اور کارلوس الکاراز کے زخمی ہو کر باہر ہونے کے بعد اب ان پر سپین کی امیدوں کا پورا بوجھ ہے۔ ٹینس کے مایہ ناز کوچ ٹونی نڈال نے بھی رافیل جوڈار کو نئی نسل کا سب سے باصلاحیت کھلاڑی قرار دیا ہے۔ اگر رافیل جوڈار سیکنڈ سیڈ الیگزینڈرزویروف کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو وہ 2005میں رافیل نڈال کی تاریخی جیت کے بعد فرنچ اوپن جیتنے والے پہلے نوجوان کھلاڑی بننے کے انتہائی قریب پہنچ جائیں گے۔







