چین کو بھینسوں کی جینیاتی مواد کی برآمد کے حوالے سے میٹریل ٹرانسفر ایگریمنٹ کو حتمی شکل دے دی گئی، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

چین کو بھینسوں کی جینیاتی مواد کی برآمد کے حوالے سے میٹریل ٹرانسفر ایگریمنٹ کو حتمی شکل دے دی گئی، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان کے لائیو سٹاک سیکٹر کے لیے ایک اہم پیش رفت حاصل کرتے ہوئے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور چین کے رائل گروپ آف دی پیپلز ریپبلک آف چائنا کے درمیان ایک تاریخی میٹریل ٹرانسفر ایگریمنٹ (ایم ٹی اے) کو کامیابی سے حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت پاکستان سے چین کو بھینسوں کے اعلیٰ معیار کے جینیاتی مواد کی برآمد ممکن ہو گی۔یہ معاہدہ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور اینمل ہسبنڈری کمشنر ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی کی مسلسل سفارتی، تکنیکی اور ریگولیٹری کوششوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے چینی ہم منصبوں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے لائیو سٹاک برآمدات کے لیے ایک نیا راستہ کھولا اور پاکستان کی اعلیٰ معیار کی بھینسوں کی جینیات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔

معاہدے کے تحت چین کے رائل گروپ نے پاکستان میں ایک جدید ترین ایمبریو، سیمین اور اووا پروڈکشن یونٹ قائم کیا ہے جہاں بھینسوں کے جینیاتی مواد کی جمع آوری، پروسیسنگ اور برآمد کی جائے گی جس میں ایمبریوز، سیمین اور سیکسڈ سیمین شامل ہیں۔ یہ اقدام پاکستان کے لائیو سٹاک سیکٹر کو ایک اعلیٰ قدر کی برآمدی صنعت میں تبدیل کرنے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان دنیا کی بہترین بھینسوں کی نسلوں کا حامل ہے، خصوصاً نیلی راوی نسل جو اپنی بہترین دودھ کی پیداوار اور جینیاتی خصوصیات کے باعث عالمی سطح پر پہچانی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستانی بھینسوں کی جینیات کو ایک بین الاقوامی برانڈ کے طور پر متعارف کرانے اور ملک بھر کے کسانوں، بریڈرز اور محققین کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گا۔ابتدائی تخمینوں کے مطابق چین فوری طور پر تقریباً 5 ملین امریکی ڈالر مالیت کے بھینسوں کے ایمبریوز درآمد کرے گا جبکہ سالانہ بنیادوں پر ایمبریوز، سیمین اور سیکسڈ سیمین کی مجموعی برآمدات تقریباً 25 ملین امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جس سے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو گا اور پاکستان کے لائیو سٹاک سیکٹر کے لیے نئی بین الاقوامی منڈیاں کھلیں گی۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ اس معاہدے کو پاکستان کے قومی مفادات اور جینیاتی وسائل پر خودمختار حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نہایت احتیاط سے ترتیب دیا گیا ہے۔ میٹریل ٹرانسفر ایگریمنٹ (ایم ٹی اے) خود ایک حفاظتی نظام کے طور پر کام کرتا ہے جو جینیاتی وسائل تک منظم رسائی، منظم منتقلی اور کسی بھی غلط استعمال یا غیر مجاز استحصال سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ معاہدہ ناگویا پروٹوکول برائے رسائی و فائدہ تقسیم، کنونشن آن بائیولوجیکل ڈائیورسٹی اور پاکستان کے متعلقہ قانونی فریم ورک کی مکمل پاسداری کو یقینی بناتا ہے۔

معاہدے کی ایک اہم خصوصیت پاکستان کے دانشورانہ املاک کے حقوق اور ان قومی مفادات کا جامع تحفظ ہے جو اس کے قیمتی بھینسوں کے جینیاتی وسائل سے متعلق ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ان شقوں کے تحت پاکستان کی بھینسوں کی جینیات ایک محفوظ قومی اثاثہ رہیں گی اور ان کے استعمال سے حاصل ہونے والے مستقبل کے تجارتی فوائد منصفانہ اور مساوی بنیادوں پر پاکستان کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔

مزید خبریں