اقتصادی ترقی کو قومی ایمرجنسی کے طور پر لینا ہوگا، پائیدار ترقی کے بغیر ملک کو درپیش معاشی چیلنجز پر قابو پانا ممکن نہیں، وفاقی وزیر احسن اقبال کی قومی اقتصادی کونسل کو بریفنگ

اقتصادی ترقی کو قومی ایمرجنسی کے طور پر لینا ہوگا، پائیدار ترقی کے بغیر ملک کو درپیش معاشی چیلنجز پر قابو پانا ممکن نہیں، وفاقی وزیر احسن اقبال کی قومی اقتصادی کونسل کو بریفنگ

اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ اقتصادی ترقی کو قومی ایمرجنسی کے طور پر لینا ہوگا، کیونکہ پائیدار ترقی کے بغیر ملک کو درپیش معاشی چیلنجز پر قابو پانا ممکن نہیں۔قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کو ملک کی اقتصادی صورتحال اور ترقیاتی حکمت عملی پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل کی ترقی پاکستان کی قومی ترقی کا سب سے کمزور عنصر ہے جسے مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ’’اڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت 11 قومی اقتصادی مشنز ملک کی ترقی کا مرکزی فریم ورک ہوں گے اور ان پر عملدرآمد کے لیے پورے حکومتی نظام کو متحرک کیا جائے گا۔

احسن اقبال نے بتایا کہ قومی اقتصادی کونسل کی نگرانی میں وزارت منصوبہ بندی ان 11 قومی مشنز کے لیے جامع روڈ میپس اور عملدرآمدی منصوبے تیار کرے گی جبکہ وزیراعظم کی منظوری سے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جو مختلف شعبوں میں اہداف کے حصول کے لیے عملی لائحہ عمل مرتب کریں گی۔انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ مشن کے ذریعے برآمدات میں تیز رفتار اضافہ قومی ترجیح ہوگا جبکہ وسائل کی بہتر فراہمی اور ٹیکس اصلاحات کے ذریعے مالیاتی نظام کو مضبوط بنایا جائے گا۔ ’’پروڈیوس ان پاکستان‘‘ مشن کے تحت صنعتی پیداوار اور مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جائے گا جبکہ ایگریکلچر ویلیو چین مشن زرعی شعبے کی پیداواری صلاحیت اور برآمدات میں اضافے پر توجہ دے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ توانائی، پانی اور ماحولیاتی لچک کے مشن کے ذریعے موسمیاتی اور وسائل کے چیلنجز کا مربوط حل تلاش کیا جائے گا جبکہ ای-پاکستان اور اے آئی مشن کے ذریعے ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کو تیز کیا جائے گا۔

ہیومن کیپیٹل اینڈ سکلز مشن نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتوں سے آراستہ کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہائوسنگ، کنسٹرکشن اور رئیل اسٹیٹ، سماجی تحفظ اور غربت میں کمی، ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی و لاجسٹکس اور سرمایہ کاری سہولت کاری سمیت دیگر مشنز بھی قومی ترقی کے اہم ستون ہوں گے۔احسن اقبال نے خبردار کیا کہ اگر آج ضروری اصلاحات نہ کی گئیں تو مستقبل کا معاشی بحران پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتا ہے، کیونکہ ملکی اقتصادی بنیادیں ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ 2.55 فیصد آبادیاتی شرح نمو کے ساتھ پائیدار ترقی حاصل کرنا ممکن نہیں، اسی لیے آبادی میں اضافے پر قابو پانے اور بہتر کارکردگی دکھانے والے صوبوں کی حوصلہ افزائی کے لیے این ایف سی ایوارڈ میں اصلاحات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں تمام وزرائے اعلیٰ نے کونسل کے فعال، موثر اور مضبوط کردار کی مکمل حمایت کی اور اس امر پر اتفاق کیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔وفاقی وزیر کے مطابق قومی اقتصادی کونسل نے انسانی ترقی کو قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کا مرکزی ستون قرار دیا ہے جبکہ ترقیاتی فنڈز کو قومی ترجیحات کے مطابق استعمال کرنے اور غیر ضروری منصوبوں کی حوصلہ شکنی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

مزید خبریں