آزادکشمیر میں ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 نکات پر عملدرآمد ہوچکا تھا،مہاجرین مقیم پاکستان کے حوالے سے سپریم کورٹ آزادکشمیر نے قرار دیا ہے کہ نئی اسمبلی فیصلہ کرے، اعظم نذیر تارڑ

آزادکشمیر میں ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 نکات پر عملدرآمد ہوچکا تھا،مہاجرین مقیم پاکستان کے حوالے سے سپریم کورٹ آزادکشمیر نے قرار دیا ہے کہ نئی اسمبلی فیصلہ کرے، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں ایکشن کمیٹی کے ساتھ 38 میں سے 35 نکات پر عملدرآمد ہوچکا تھا،مہاجرین مقیم پاکستان نے بڑی قربانیاں دی ہیں، ان کی آزادکشمیر اسمبلی میں نمائندگی کے حوالے سے سپریم کورٹ آزادکشمیر نے صدارتی ریفرنس پر اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ نئی اسمبلی اس کا فیصلہ کرے۔بدھ کو قومی اسمبلی میں بیرسٹر گوہر خان کے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں وزیراعظم نے کمیٹی بنائی جس نے ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کئے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ اور ہمیں بہت عزیز ہے۔

وزیر اعظم نے گزشتہ سال ایک کمیٹی بنائی، اس میں ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 35 مان لیے گئے۔بجلی 3 روپے یونٹ اور آٹا 2 ہزار روپے من انہیں مل رہا ہے،اس سبسڈی کے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی 12 سیٹیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، یہ وہی مہاجرین ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ قربان کیا، یہ پاکستان میں آباد ہیں، اس پر بات ہوئی، اس پر اے پی سی منعقد کی گئی، اگر پی ٹی آئی اس میں شریک ہوتی تو اچھا ہوتا، ایسے حساس معاملات پر بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ وہاں یہ قراداد اسمبلی میں لائی گئی اور اس پر یہ فیصلہ ہوا کہ اس پر قانونی رائے کے لئےسپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا جائے، اس ریفرنس پرسپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ آئین میں ترمیم کی صوابدید پارلیمان کی ہے،اس آئینی معاملہ پر نئی اسمبلی قانون سازی کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرحد پار سے ہدایات پر حالات خراب کئے جا رہے ہیں، اس کے ثبوت سامنے آرہے ہیں،اس معاملہ پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہ کریں، یہ حساس معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ 10 مئی کو جو عزت اللہ نے دی اور بھارت کو موثر جواب دیا، پوری پارلیمان ساتھ کھڑی تھی، ہم سب نے مل کر فتح کا جشن منایا۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کے ساتھ مل کر آرٹیکل 164 کے تحت خصوصی حالات میں مدد مانگی ہے، یہ پاکستان کے عوام کا پیسہ ہے، ایک فارمولے کے تحت صوبوں میں تقسیم کرتے ہیں، اس میں سے مدد طلب کرنے کی اجازت آئین دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سب کو پتہ ہے کہ فنڈز کی کمی ہے، پی ٹی آئی حکومت جاتے جاتے آئی ایم ایف کے لئے بارودی سرنگیں لگا کر گئی تھی، ماضی کے قصے رہنے دیں۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سب انتخابی عمل سوشل میڈیا اور ٹی وی چینل پر دکھایا جا رہا تھا،وہاں کہاں سے پی ٹی آئی جیتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم سے پہلے بھی پی ٹی آئی کے خلاف فیصلے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی میعاد ختم ہوچکی ہے، آپ کو بار بار مدعو کیا کہ مل بیٹھیں، آئینی عمل کے لئے ایک بار پھر آپ کو دعوت دیتے ہیں، اپنے نام دیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں بار بار یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ہم نے بجٹ پر مشاورت کرنی ہے، عمران خان سے ملاقات کرائی جائے، سزا یافتہ شخص کیا کر سکتا ہے کیا نہیں، یہ سپریم کورٹ طے کرچکی ہے،اس وقت آپ مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ پر آپ کو بریفنگ دیں گے، آئینی معاملات پر بات چیت کریں۔

مزید خبریں