مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں وزارتِ داخلہ اور اس کے تمام ماتحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے مجموعی طور پر 259 ارب 70 کروڑ 70 لاکھ روپے کی خطیر فنڈز کی تجاویز
داخلی سلامتی کے لیے 259 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):ملک میں اندرونی سکیورٹی کو مضبوط بنانے، دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لئے وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں وزارتِ داخلہ اور اس کے تمام ماتحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے مجموعی طور پر 259 ارب 70 کروڑ 70 لاکھ روپے کی خطیر فنڈز کی تجاویز پیش کر دی ہیں۔
بجٹ دستاویز کے مطابق وزارتِ داخلہ کے سول ایڈمنسٹریشن اور روزمرہ کے جاری (غیر ترقیاتی) اخراجات کی مد میں 24 ارب 30 کروڑ 70 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک بھر میں سکیورٹی فرائض سرانجام دینے والے اہم ماتحت سکیورٹی اداروں بشمول پاکستان رینجرز، فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی)، اسلام آباد پولیس اور کوسٹ گارڈز کے آپریشنل اخراجات، ایندھن، ہتھیاروں کی خریداری اور ملازمین کی تنخواہوں کے لئے جاری بجٹ کے تحت ہی 224 ارب 70 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔دستاویز کے مطابق غیر ترقیاتی بجٹ کے علاوہ وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت وزارتِ داخلہ اور اس کے ماتحت اداروں کے سکیورٹی انفراسٹرکچر، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور انٹیلی جنس بیورو کے کاؤنٹر ٹیررازم اور سائبر کرائم پراجیکٹس اور نادرا کے سمارٹ بارڈر مینجمنٹ کے جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10 ارب 70 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے تاکہ ملک کے سکیورٹی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا سکے۔




