مالی سال 27-2026 کے ترقیاتی پروگرام میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور ہنر مندی کے فروغ کے لئے نمایاں مالی وسائل مختص
مالی سال 27-2026 کے ترقیاتی پروگرام میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور ہنر مندی کے فروغ کے لئے نمایاں مالی وسائل مختص

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے ترقیاتی پروگرام میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور ہنر مندی کے فروغ کے لئے نمایاں مالی وسائل مختص کرتے ہوئے اس شعبے کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیا ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کو ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، اسی تناظر میں وفاقی ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لئے 46 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو گزشتہ مالی سال کے 34.9 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔حکومت کی جانب سے مختص فنڈز مستحق طلبہ و طالبات کے لئے وظائف کی فراہمی، جامعات کی تحقیقی صلاحیت میں اضافے، جدید تعلیمی سہولیات کے فروغ اور ڈیجیٹل لرننگ کے نظام کو وسعت دینے پر خرچ کئے جائیں گے۔
اس مقصد کے لئے پاکستان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن بھی کی جائے گی تاکہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو جدید ڈیجیٹل وسائل تک بہتر رسائی حاصل ہو سکے۔دستاویزات کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیمی نظام کے فروغ کو بھی حکومتی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے جس سے تدریسی اور تحقیقی عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے میں مدد ملے گی۔سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کے لئے علیحدہ طور پر 3.6 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ان فنڈز کے ذریعے ٹیکنالوجی کی منتقلی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی معاونت، قابل تجدید توانائی، الیکٹرانکس، زراعت اور صحت کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور سائنس و ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری نہ صرف قومی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی بلکہ نوجوانوں کے لئے روزگار، اختراع اور کاروباری مواقع بھی پیدا کرے گی، جس سے پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔وفاقی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بنیادی تعلیم، کالج تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بھی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے ذریعے انسانی وسائل کی ترقی کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ پاکستان کو علم پر مبنی معیشت کی جانب گامزن کیا جا سکے۔






