نیشنل فیس لیس سینٹر بنانے جارہے ہیں جو صوابدیدی اور غیر صوابدیدی افعال کو ایک دوسرے سے الگ کر دے گا،وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب

نیشنل فیس لیس سینٹر بنانے جارہے ہیں جو صوابدیدی اور غیر صوابدیدی افعال کو ایک دوسرے سے الگ کر دے گا،وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ایف بی آر کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کے حوالہ سے اپنی بجٹ تقریر میں نیشنل فیس لیس سینٹر اینڈ اسیسمنٹ سسٹم کے بارے میں کہا کہ ہم اس ماڈل کے تحت ایک نیشنل فیس لیس سینٹر بنانے جارہے ہیں جو صوابدیدی اور غیر صوابدیدی افعال کو ایک دوسرے سے الگ کر دے گا۔ اس مرکز میں موجود فیس لیس ونگ کے پاس صوابدیدی اختیارات جیسا کہ آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول ہوں گے۔ جبکہ فیلڈ آپریشن ونگ ویریفیکیشن، رجسٹریشن اور ریکوری کا ذمہ دار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں دفاتر کے درمیان بنیادی فرق سٹرکچر اور قانونی نوعیت کا ہو گا، یہ فرق انتظامی امور یا عارضی اقدامات سے ختم نہیں کیا جا سکے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مرکزی ونگ میں تمام آڈٹ اور اسیسمنٹ کی کارروائی کے دوران ٹیکس دہندگان اور ٹیکس آفیسر کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہو گا۔ سنگل بلائنڈ موڈ میں آفیسر کی شناخت ٹیکس پئیر سے خفیہ رکھی جائے گی ۔ ڈبل بلائنڈ موڈ میں بعد ازاں ٹیکس دہندہ کی شناخت بھی آفسیر سے خفیہ رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام پیغام رسانی ایف بی آر کے آئی آر آئی ایس پورٹل کے ذریعے ہو گی۔ ٹیکس دہندہ اور ٹیکس آفیسر کے مابین کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو گا اور اس کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ آفیسر خود کوئی کیس منتخب نہیں کر سکے گا۔ خود کار طریقہ کار کے تحت سسٹم، رسک سکور کی بنیاد پر کوئی کیس آفیسر کو تقویض کرے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آڈٹ صرف ڈیٹا کی بنیاد پر ہو گا۔ اسی طرح کا فیس لیس نظام گزشتہ ڈیڑھ سال سے ایف بی آر کے کسٹم ونگ میں آزمایا جا چکا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف امپورٹرز کو سہولت میسر ہوئی ہے بلکہ کسٹم حکام سے منسوب کرپشن میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس امید کا اظہار کیا کہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں بھی اس اقدام سے کرپشن میں خاطر خواہ کمی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ سب سے اہم تبدیلی صرف پہچان خفیہ رکھنا نہیں بلکہ طریقہ کار میں بھی اختیارات کو الگ کرنا ہے۔ سسٹم کیس خود منتخب کرے گا۔ ایک علیحدہ آڈٹ یونٹ اس کا معائنہ کرے گا۔ کوالٹی کنٹرول یونٹ جو آڈیٹر سے بالکل الگ ہو گا، ہر آرڈر کے ایشو ہونے سے پہلے اس کا معائنہ کرے گا۔ ٹیکس ڈیمانڈ بالکل مختلف اسیسمنٹ فنکشن کی ذمہ داری ہو گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ریکوری کے معاملات ایک اور حصہ دیکھے گا۔ اس پوری چین میں کوئی ایک افسر کسی کیس پر شروع سے آخر تک گرفت نہیں رکھ سکے گا۔ یہ صرف انتظامی تبدیلی نہیں ہے بلکہ کرپشن کو ختم کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہو گی اور یہی تبدیلی پاکستان کے ٹیکس کے معاملات کو مزید شفاف اور سہل بنائے گی ۔