گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں 500 سے زائد بھارتی سکھ یاتریوں کی مذہبی رسومات کی ادائیگی
بھارتی سکھ یاتریوں نے جوڑ میلہ کے سلسلہ میں گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں مذہبی رسومات ادا کیں

مزید خبریں
اٹک ۔ 13 جون (اے پی پی):گرو ارجن دیو جی کے 420ویں یومِ شہادت اور سالانہ جوڑ میلہ میں شرکت کے لیے پاکستان آئے ہوئے 500 سے زائد بھارتی سکھ یاتریوں نے ہفتہ کے روز گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔
یاتریوں نے رہائش، لنگر، صفائی، طبی سہولیات، ٹرانسپورٹ اور فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان، متروکہ وقف املاک بورڈ اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انہیں عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ یاتریوں کا کہنا تھا کہ ہمارے گوردوارے پہلے سے زیادہ بہتر اور محفوظ حالت میں ہیں۔ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے کہا کہ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان کی ہدایات کے تحت سکھ یاتریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان میں مذہبی سیاحت کے فروغ اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک مضبوط مثال ہے۔شیڈول کے مطابق بھارتی سکھ یاتری گوردوارہ سچا سودا فاروق آباد کی زیارت کے بعد گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال پہنچے، جہاں وہ ایک روز قیام کریں گے اور اپنی مذہبی رسومات ادا کریں گے۔ 14 جون کو سکھ جتھہ گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور کے لیے روانہ ہوگا، جبکہ 15 جون کو یاتری لاہور جاتے ہوئے گوردوارہ روہڑی صاحب ایمن آباد کی زیارت کریں گے۔ گرو ارجن دیو جی کے یومِ شہادت کی مرکزی تقریب 16 جون کو گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور میں منعقد ہوگی۔ بھارتی سکھ یاتری اپنا 10 روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد 19 جون کو واپس روانہ ہوں گے۔دریں اثناء کمشنر راولپنڈی انجینئر عامر خٹک نے ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی ریجن بابر سرفراز الپا کے ہمراہ گوردوارہ سری پنجہ صاحب حسن ابدال کا دورہ کیا اور سالانہ جوڑ میلہ میں شریک سکھ یاتریوں کے لیے کیے گئے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک سردار موارہن خان اور ڈپٹی کمشنر اٹک راؤ عاطف رضا بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ افسران نے تاریخی گوردوارہ میں داخلی و خارجی راستوں، ہجوم کے انتظامات، سیکیورٹی پوائنٹس اور مجموعی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی معائنہ کیا۔انہوں نے مذہبی تقریبات میں شریک سکھ یاتریوں کی حفاظت اور سہولت کے لیے قائم کیے گئے انتظامات اور سیکیورٹی پروٹوکولز کا بھی جائزہ لیا








