وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ: بجٹ 2026-27 پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور نوجوانوں کی بااختیاری کے لیے اہم قدم
آئندہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ پاکستان میں ٹیک انقلاب اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی منزلیں طے کرے گا، شزہ فاطمہ خواجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ ہ فاطمہ خواجہ نے بجٹ آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ کو پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے ایک اہم لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی توجہ مصنوعی ذہانت اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے نئے دور کے آغاز کی نشاندہی کرتی ہے اور اس منصوبے کے لیے 1 ارب 58 کروڑ روپے مالیت کے نئے منصوبے مرتب کیے گئے ہیں جس سے ملک میں تکنیکی ترقی کا فروغ اور ملک بھر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کے دوران شزہ ہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ بجٹ 27-2026 پاکستان کے نوجوانوں کو ڈیجیٹل دور میں ترقی کے لیے درکار مہارتوں اور مواقع سے آراستہ کرنے کے وزیر اعظم کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اداروں کو جدید بنانے اور پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل اکانومی میں صف اول پر لانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر کے لیے بہت سی مثبت پیش رفت کا حامل ہےجو ڈیجیٹل ترقی کو مضبوط کرے گا، مواقع کو وسعت دے گا اور ملک بھر میں جدت طرازی کو بھی وسعت دے گا۔ انہوں نے اس بات کی بے حد تعریف کی کہ آئی ٹی بجٹ کو نوجوانوں پر فوکس کرتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں، مواقع اور بڑھتی ہوئی ٹیک اکانومی تک رسائی کے ساتھ بااختیار بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں پر مبنی یہ نقطہ نظر علم پر مبنی معیشت کی تعمیر کے لیے وزیر اعظم کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جس سے جدت، ٹیکنا لوجی اور صنعتی ترقی کے ذریعے طویل عرصے تک ترقی کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ شزہ فاطمہ خواجہ نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان میں سال کے آخر تک کئی اہم بین الاقوامی ٹیکنالوجی پروجیکٹس کی تکمیل متوقع ہے، جس سے روزگار اور جدت کی نئی راہیں کھلیں گی۔ انہوں نے آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد ٹیکس میں کمی اور فری لانسرز کو سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کو جاری رکھنے کا بھی خیرمقدم کیا اور انہیں ملک کے بڑھتے ہوئے ٹیک ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے کے لیے اہم اقدامات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک واضح اصلاحاتی ایجنڈے کا خاکہ پیش کیا ہے جس کا مرکز تین تبدیلی کی ترجیحات ہیں، جس کا آغاز سرکاری خدمات کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو عوامی سہولیات تک تیز، شفاف اور پریشانی سے پاک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا ستون مالیاتی نظام کو جدید بنانے، مشکلات پر قابو پانے اور احتساب کو مضبوط بنانے کے لیے کیش لیس معیشت کی طرف منتقل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل انضمام کے ذریعے مکمل طور پر پیپر لیس حکومت کی طرف پیش قدمی جاری ہے جس کا مقصد گورننس کو بہتر بنانا، تاخیر کو کم کرنا اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بڑھانا ہے۔







