نیشنل سینٹر آف ایکسیلینس اِن جیالوجی پشاور کے زیرِ اہتمام منعقدہ آٹھویں بین الاقوامی کانفرنس برائے ارضیاتی علوم پاکستان (ارتھ سائنسز پاکستان 2026) کامیابی کے ساتھ باڑہ گلی سمر کیمپس میں اختتام پذیر ہوگئی
آٹھویں بین الاقوامی کانفرنس برائے ارضیاتی علوم پاکستان کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر، سائنسی برتری اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ پر زور

مزید خبریں
پشاور۔ 15 جون (اے پی پی):نیشنل سینٹر آف ایکسیلینس اِن جیالوجی پشاور کے زیرِ اہتمام منعقدہ آٹھویں بین الاقوامی کانفرنس برائے ارضیاتی علوم پاکستان (ارتھ سائنسز پاکستان 2026) کامیابی کے ساتھ باڑہ گلی سمر کیمپس میں اختتام پذیر ہوگئی۔نیشنل سینٹر آ فس ایکسیلینس ان جیالوجی پشاور تر جمان کے مطابق اس کانفرنس میں پاکستان اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں، پالیسی سازوں، صنعتی شعبے کے نمائندوں اور طلبہ نے شرکت کی اور پائیدار وسائل کی ترقی، آفات سے نمٹنے کی صلاحیت، موسمیاتی تبدیلی اور ارضی علوم میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر تبادلۂ خیال کیا۔کانفرنس کا آغاز پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی، ڈائریکٹر این سی ای جی، کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جنہوں نے ادارے کی ارضیاتی تحقیق، معدنی وسائل کی تلاش، ماحولیاتی مطالعات، استعدادِ کار میں اضافے اور بین الاقوامی روابط کے فروغ میں خدمات کو اجاگر کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر خالد لطیف، چیف آرگنائزر ارتھ سائنسز پاکستان ، نے کانفرنس کے سلسلے کا تعارف پیش کیا اور سائنسی تبادلۂ خیال اور استعداد سازی میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی۔افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر محمد اکمل، چیئرمین پاکستان سائنس فاؤنڈیشن، نے اپنے خطاب میں قدرتی وسائل کی پائیدار ترقی کی ضرورت پر زور دیا اور ایسے پروگراموں کے انعقاد میں این سی ای جی کے کردار کو سراہا، جو صنعت، جامعات، حکومت اور عوام کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے علم اور خیالات کے تبادلے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔کانفرنس کے دوران شرکاء نے معدنی وسائل، ریموٹ سینسنگ، ارضیاتی خطرات، زیرِ زمین پانی، ماحولیاتی نگرانی، توانائی کے وسائل اور جغرافیائی معلوماتی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں جدید تحقیق پیش کی، جس سے جامعات، حکومتی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کو مزید فروغ ملا۔اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر محمد اسرار، سیکریٹری محکمہ معدنیات و کان کنی، حکومت خیبر پختونخوا، تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے معاشی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کے فروغ کے لیے سائنسی تحقیق اور معدنی وسائل کی ذمہ دارانہ ترقی کی اہمیت پر زور دیا اور جامعات، صنعت اور حکومت کے درمیان مضبوط شراکت داری کی ضرورت کو اجاگر کیا۔اختتامی تقریب میں نمایاں مہمانوں میں پروفیسر ڈاکٹر مارک فان ڈیر میجڈے (یونیورسٹی آف ٹوئنٹے، نیدرلینڈز)، ڈاکٹر ڈینس گرومباخر (آرہس یونیورسٹی، ڈنمارک) اور محمد فاروق، ایڈیشنل سیکریٹری، محکمہ اعلیٰ تعلیم، حکومت خیبر پختونخوا، شامل تھے۔ انہوں نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون، تحقیقی معیار میں بہتری اور اعلیٰ تعلیم میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔کانفرنس کا اختتام پروفیسر ڈاکٹر خالد لطیف کی جانب سے کانفرنس کے خلاصے اور اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے شرکاء، اسپانسرز، شراکت دار اداروں اور منتظمین کی ٹیم، بالخصوص ڈاکٹر وقاص احمد (کو-چیف آرگنائزر) اور ڈاکٹر سرفراز احمد (کانفرنس سیکرٹری)، کی خدمات کو سراہا۔ پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی کی قیادت میں منعقدہ ارتھ سائنسز پاکستان نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ارضی علوم جدت، شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور پائیدار قومی ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔








