موسمیاتی تبدیلی عالمی مسئلہ ہے ،گوادرسے لیکر ژوب تک ہم موسمیاتی بحرانوں کی فرنٹ لائن پر ہیں،گورنر بلوچستان
موسمیاتی تبدیلی عالمی مسئلہ ہے ،گوادرسے لیکر ژوب تک ہم موسمیاتی بحرانوں کی فرنٹ لائن پر ہیں،گورنر بلوچستان

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 15 جون (اے پی پی):گورنربلوچستان شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہاہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے لہذا اس کا حل بھی عالمی ہونا چاہیے کیونکہ سیارہ زمین ہی پوری کائنات میں تمام انسانوں کا واحد مشترکہ گھر ہے۔ کلائمیٹ سیکورٹی اور پالیسی ڈائیلاگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ انہیں تمام متعلقہ محکموں، مقامی حکام، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ آج کے مکالمہ سے ہمارے پالیسی میکرز کو مدد اور رہنمائی ملے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کوئٹہ میں یو این ڈی پی کے زیر اہتمام بلوچستان میں کلائمیٹ سیکورٹی پروگرام کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ریزیڈنٹ ریپریزٹیٹو آف یو این ڈی پی پاکستان ڈاکٹر سیموئل رسک ڈپٹی ریپریزٹیٹو وین نیگم, اعزازی قونصل جنرل میر مراد بلوچ، صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، سردار عبدالرحمن کھتران، راحیلہ حمید خان درانی، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، ہو این ڈی پی کے صوبائی ہیڈ ذوالفقار درانی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، سابق سینیٹر روشن خورشید ںروچہ اور ایڈوکیٹ زرغونہ بڑیچ سمیت متعدد ماہرین اور مہمانان گرامی موجود تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔
گوادر سے لیکر ژوب تک ہم موسمیاتی بحرانوں کی فرنٹ لائن پر ہیں۔ ماحولیاتی تنا، گورننس اور سماجی استحکام کیلئے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ صرف 2022 میں، ژوب ڈویژن میں جنگلات میں لگنے والی آگ نے تقریبا ً40 فیصد درختوں کو متاثر کیا جبکہ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے صوبے بھر میں 1.3 ملین سے زائد افراد کو بے گھر کیا اور ملک بھر میں 9 ملین سے زائد افراد کو غربت کی طرف دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا، جن میں سے 7 فیصد سے زیادہ بلوچستان میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ چینج سے متعلق قدرتی آفات سے متاثر ہونے والی کمیونٹیز کے ساتھ یو این ڈی پی کا کردار لائق تحسین ہے بشمول ہاؤسنگ کی تعمیر نو اور بحالی کی امداد کے ساتھ ساتھ اس کے ذریعہ معاش اور عوامی اداروں کے ساتھ تعمیری مکالمے کے ذریعے آب و ہوا کے خطرے سے دوچار کمیونٹیز کی مدد و رہنمائی کی ہے۔
ایسی کوششوں کو دیکھنا حوصلہ افزا ہے جو شہریوں کو مکالمے، ثالثی اور شکایات کے ازالے کے ذریعے اپنے خدشات کو اٹھانے میں مدد کرتے ہیں جبکہ حکومتی اداروں کو ان طریقوں سے جواب دینے میں مدد دیتے ہیں جو اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں، رابطہ کاری کو بہتر بناتے ہیں اور بڑے پیمانے پر عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بلوچستان اپنے منفرد جغرافیہ پہاڑوں، صحراں، معدنی وسائل اور ایک طویل ساحلی پٹی پر مشتمل ہے۔ یہاں کے لوگ نسلوں سے مشکل ماحولیاتی حالات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ریزیلنس کو ایک نظریہ کے طور پر نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے ایک حصے کے طور پر سمجھتے ہیں۔
اسلئے بلوچستان کو ایسی شراکت داری کی ضرورت ہے جو عملی اور ہمارے معروضی حالات پر مبنی ہوں۔ بحیثیت چانسلر آف پبلک سیکٹر یونیورسٹیز میں ہر وائس چانسلر اور اپنی گورنر ہاؤس ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اپنے کام کو عملی طور پر مرتب کریں۔ بلوچستان میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں۔ ہماری ساحلی پٹی، دریا، جنگلات، قدرتی وسائل، نوجوان آبادی، پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیاں اور سب سے بڑھ کر ہمارے لوگوں کی ریزیلنس یہ سب بڑی طاقتیں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماحولیاتی دبا زیادہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
پانی کی کمی، خشک سالی، جنگلات کی کٹائی، زمین کی کٹائی اور ساحلی کشیدگی صوبے بھر میں زندگی اور معاش دونوں کو متاثر کر رہی ہے۔ گوادر اور مکران کی ساحلی پٹی میں، کمیونٹیز کو بلیو اکانومی، پینے کے پانی، ماہی گیری اور بدلتے ہوئے سمندری حالات سے منسلک چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ مسائل ایک عملی اور سائنسی نقطہ نظر کے متقاضی ہیں کیونکہ یہ نہ صرف ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ہمارے لوگوں کی فلاح و بہبود، وقار اور معاشی مستقبل کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
گورنر مندوخیل نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے بلوچستان موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی 2024 کے ذریعے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اگلا مرحلہ مضبوط رابطہ کاری، عملی منصوبہ بندی اور کمیونٹیز کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے اس کے نفاذ کی حمایت کرنا ہے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہمارا سپورٹر جرمن حکومت ہے۔ چونکہ جرمنی عظیم مفکرین اور فلاسفرز کی سرزمین ہے اسلئے جرمنی کے لوگ اپنے فلسفیانہ ورثے کی وجہ سے آفاقی نظریات کو بہتر سمجھ سکتے ہیں اور عملی حل بھی پیش کر سکتے ہیں۔








