بجٹ پیکیج میں گیارہ ریلیف اقدامات، دس معقولیت و اصلاح کے اقدامات اور پانچ انتظامی اصلاحات شامل ہیں، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کوبریفنگ

بجٹ پیکیج میں گیارہ ریلیف اقدامات، دس معقولیت و اصلاح کے اقدامات اور پانچ انتظامی اصلاحات شامل ہیں، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کوبریفنگ

اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کوبتایاگیاہے کہ بجٹ پیکیج میں گیارہ ریلیف اقدامات، دس معقولیت و اصلاح کے اقدامات، اور پانچ انتظامی اصلاحات شامل ہیں جن کا مقصد اقتصادی ترقی کو فروغ دینا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا، معیشت کی دستاویزی شکل کو مضبوط بنانا، ٹیکس تعمیل میں بہتری لانا اور محصولات کی وصولی کو مستحکم کرنا ہے، چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے مجوزہ ٹیکس رعایتوں کے ممکنہ مالیاتی اثرات اور ٹیکس کے دائرہ کارکو وسعت دینے کے لئے کی جانے والی کوششوں کی افادیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے یہ بات پیرکویہاں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

وزیرِ مملکت برائے خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر حکام نے کمیٹی کو آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں شامل مجوزہ ٹیکس اقدامات، مالیاتی اصلاحات اور محصولات بڑھانے کے اقدامات کے بارے میں جامع بریفنگ دی۔ کمیٹی نے مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کے تناظر میں تنخواہ دار طبقے کے لئے ریلیف کے اقدامات پر بھی غور کیا اور وضاحت طلب کی کہ آیا مجوزہ ٹیکس سلیبز میں تبدیلیاں متوسط آمدنی والے طبقات کو حقیقی اور مؤثر ریلیف فراہم کریں گی یا نہیں۔ اراکین نے پراپرٹی ٹیکس میں کمی، آئی ٹی شعبے کے لیے مراعات اور ان اقدامات کی اس حوالے سے مؤثریت پر بھی تشویش کا اظہار کیا ۔ ٹیکس انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کمیٹی اراکین نے مجوزہ فیس لیس آڈٹ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی اسیسمنٹ نظام کے تحت ٹیکس دہندگان کے حقوق، شفافیت، قانونی تقاضوں کی پاسداری اور ڈیٹا کی رازداری سے متعلق تحفظات کا بھی اظہار کیا۔

چیئرمین نے مشاہدہ کیا کہ ٹیکس ریلیف کے اقدامات منصفانہ اور معاشی طور پر جواز پر مبنی ہونے چاہئیں جبکہ انہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ٹیکس کی تعمیل کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر کو ہدایت کی کہ فنانس بل 2026 پر مزید غور سے قبل تفصیلی محصولات کے تخمینے، مالیاتی اثرات کے جائزے اور عملدرآمد کے منصوبے کمیٹی کو پیش کئے جائیں۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ بجٹ پیکیج میں گیارہ ریلیف اقدامات، دس معقولیت و اصلاح کے اقدامات اور پانچ انتظامی اصلاحات شامل ہیں جن کا مقصد اقتصادی ترقی کو فروغ دینا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا، معیشت کی دستاویزی شکل کو مضبوط بنانا، ٹیکس تعمیل میں بہتری لانا اور محصولات کی وصولی کو مستحکم کرنا ہے۔

بریفنگ میں اہم ریلیف اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا، جن میں برآمد کنندگان کے لیے کم از کم ٹیکس کی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنا، آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے فائنل ٹیکس رجیم کا تسلسل، نظرثانی شدہ ٹیکس سلیبز اور سرچارج کے خاتمے کے ذریعے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا، جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی، بین الاقوامی فضائی سفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی معقولیت، اور بعض اقسام کے کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے لئے سپر ٹیکس کی شرحوں میں کمی شامل ہیں۔ کمیٹی کوبتایا گیا کہ ریلیف پیکیج میں مانع حمل ادویات اور خواتین کے استعمال سے متعلق بعض مخصوص مصنوعات پر عائد ٹیکسوں کا خاتمہ، بیرونِ ملک اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس کا خاتمہ، شپنگ انڈسٹری کے لئے سیلز ٹیکس سے استثنا، اور براؤن فیلڈ ریفائنریز کی جدیدکاری اور اپ گریڈیشن کے لیے ٹیکس مراعات شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد سرمایہ کاری کو فروغ دینا، برآمدات میں اضافہ کرنا، اقتصادی سرگرمیوں کی معاونت کرنا اور معیشت کے اہم شعبوں پر ٹیکس بوجھ کو کم کرنا ہے۔

کمیٹی کو معقولیت و اصلاح کے اقدامات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، جن میں تھرڈ شیڈول کے دائرہ کار میں توسیع، چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام کا نفاذ، کوپن واشنگ لین دین کے ٹیکس نظام میں تبدیلی، صنعتی اور تجارتی درآمد کنندگان کے درمیان ٹیکس آربٹریج کے خاتمے، عدم تعمیل پر جرمانوں میں اضافہ، خدمات پر ودہولڈنگ ٹیکس کی معقولیت، لگژری گاڑیوں پر ڈیوٹیز کا نفاذ، اور سالوینٹس اور متعلقہ مصنوعات پر قابلِ ایڈجسٹ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ذریعے ایندھن میں ملاوٹ کی روک تھام کے اقدامات شامل ہیں۔

حکام نے کمیٹی کو انتظامی اصلاحات کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جن میں نیشنل فیس لیس آڈٹ ونگ اور نیشنل اسیسمنٹ ونگ کا قیام، تھرڈ پارٹی ڈیٹا کے استعمال میں اضافہ، الگورتھم پر مبنی تنازعات کے حل کا نظام، ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹمز، اور مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ ایک مرکزی ڈیٹا ہب کا قیام شامل ہے، جو رسک اسیسمنٹ اور ٹیکس تعمیل کی نگرانی میں معاون ہوگا۔ کمیٹی نے 13 جون 2026 کو منعقدہ اپنے گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی توثیق بھی کر دی۔ اجلاس میں ایم این ایز رانا ارادت شریف خان، زیب جعفر، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، حنا ربانی کھر، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محمد جاوید حنیف خان، اور شاہدہ بیگم نے شرکت کی۔ وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہرکیانی، وزارتِ خزانہ و محصولات کے سینئر افسران، اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

مزید خبریں