وزیر اعلی مریم نوازکی زیر صدارت محرم الحرام کے انتظامات،سکیورٹی اور دیگر امور پراجلاس، صوبہ بھر میں تین درجاتی سکیورٹی پلان نافذ کرنے کا حکم
وزیر اعلی مریم نوازکی زیر صدارت محرم الحرام کے انتظامات،سکیورٹی اور دیگر امور پراجلاس، صوبہ بھر میں تین درجاتی سکیورٹی پلان نافذ کرنے کا حکم

مزید خبریں
لاہور۔15جون (اے پی پی):وزیر اعلی مریم نواز کی زیر صدارت محرم الحرام کے انتظامات،سکیورٹی اور دیگر امور پراجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایاگیاکہ پنجاب میں پہلی بار 4700 امام بارگاہوں پر کیو آر کوڈڈ پینک بٹن انسٹال کیے گئے ہیں، وزیر اعلی نے اپیل کی ہے کہ منتظمینِ مجالس فوری طور پر کیو آر کوڈ ڈائون لوڈ کریں۔ کیو آر کوڈ سکین کرتے ہی متعلقہ سکیورٹی اور انتظامی ادارے فوری حرکت میں آئیں گے۔ انہوں نے محرم الحرام کے دوران صوبہ بھر میں تھری ٹیئر (تین درجاتی) سکیورٹی پلان نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔محرم الحرام کے دوران ڈرونز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہوگی ، لاوڈ سپیکر کے غیر قانونی استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں کومبنگ آپریشنز اور رئیل ٹائم انٹیلی جنس شیئرنگ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، پنجاب حکومت ٹھنڈے اورمیٹھے پانی کی سبیلوں سے عزادارانِ حسین کی خدمت کرے گی۔وزیرِ اعلی نے ستھرا پنجاب اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ مجالس اور جلوس کے راستوں پر خوشبو کے استعمال کویقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں بتایاگیا کہ صوبہ بھر میں محرم الحرام کے دوران مجموعی طور پر 47 ہزار 280 مجالس اور جلوس منعقد ہوں گے۔ پنجاب بھر میں 37 ہزار 868 مجالس اور 9 ہزار 412 جلوس برآمد ہوں گے۔ محرم الحرام کے دوران صوبے بھر میں 1 لاکھ 25 ہزار 641 پولیس اہلکار سکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔ سکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے پاک فوج کی 61 اور رینجرز کی 76 کمپنیاں طلب کر لی گئیں ہیں،صوبے بھر کے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے 30 ہزار 445 تربیت یافتہ رضاکار بھی معاونت کریں گے۔پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی محرم الحرام کے جلوسوں کی لائیو ڈیجیٹل مانیٹرنگ کرے گی۔سیکیورٹی مانیٹرنگ کے لیے صوبہ بھر میں 5 ہزار 623 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے فعال ہیں، زمینی حالات پر نظر رکھنے کے لیے 1040 باڈی کیمز اور جدید ڈرونز کا استعمال کیا جائے گا۔ حساس ترین مقامات پر 1000 سے زائد جدید 4G ایونٹ کیمرے بھی نصب کر دئیے گئے۔
موبائل سروس معطلی کی صورت میں 11 اضلاع کے ہیڈ کوارٹرز میں LTE کوریج فراہم کی جائے گی۔سیف سٹیز کنٹرول رومز سے 1400 سے زائد افسران چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ پر مامور ہوں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ امن دشمن عناصر اور کالعدم تنظیموں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تیز کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کے تحت صوبے بھر میں اب تک 43 ٹارگٹڈ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔محرم الحرام کے دوران مروجہ اور لائسنس یافتہ جلوسوں کے علاوہ کسی نئے جلوس یا روٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔
جلوسوں کے روٹس اور اوقات کار کی پابندی ہر صورت لازمی ہے اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرننس ہوگی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نفرت انگیز تقاریر، وال چاکنگ اور اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائدکردی گئی ہے، اشتعال انگیز گفتگو اور وال چاکنگ کے تدارک کے لیے 794 علما کی زبان بندی اور 1418 کے داخلے پر پابندی ہے۔ پنجاب بھر میں امن کمیٹیوں کے تحت نچلی سطح پر 1 ہزار 220 کوآرڈینیشن میٹنگز مکمل کرلی گئی ہیں۔ جلوس کے داخلی و خاجی راستوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز نصب کیے جائیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی محرم الحرام کے جلوسوں کی لائیو ڈیجیٹل مانیٹرنگ کرے گی۔ حالات پر نظر رکھنے کے لیے 1040 باڈی کیمز اور جدید ڈرونز کا استعمال کیا جائے گا۔
حساس ترین مقامات پر 1000 سے زائد جدید 4G ایونٹ کیمرے بھی نصب کر دئیے گئے ہیں ۔ سیف سٹیز کنٹرول رومز سے 1400 سے زائد افسران چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ پر مامور ہوں گے۔انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنزتیز کرنے کا حکم دیا ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ صوبے بھر میں اب تک 43 ٹارگٹڈ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں ۔
شرپسندی پھیلانے والے 359 سوشل میڈیا اکاونٹس کا سراغ لگا کر سائبر رسپانس ٹیمیں متحرک کر دی گئی ہیں۔محرم الحرام کے دوران مروجہ اور لائسنس یافتہ جلوسوں کے علاوہ کسی نئے جلوس یا روٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔ نفرت انگیز تقاریر، وال چاکنگ اور اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائدہے۔ پنجاب بھر میں امن کمیٹیوں کے تحت نچلی سطح پر 1 ہزار 220 کوآرڈینیشن میٹنگز منعقد کی گئی ہیں۔







