امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ لبنان میں بہت زیادہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔بی بی سی کے مطابق امریکی صدر نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف بہت طویل عرصے سے لڑ رہا ہے اور بہت سے لوگ مارے جا رہے ہیں ۔
لبنان میں بہت زیادہ لوگ مارے جا رہے ہیں، امریکی صدر کی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائی پر تنقید

مزید خبریں
واشنگٹن ۔16جون (اے پی پی):امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ لبنان میں بہت زیادہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔بی بی سی کے مطابق امریکی صدر نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف بہت طویل عرصے سے لڑ رہا ہے اور بہت سے لوگ مارے جا رہے ہیں ۔
امریکی صدر نے کہا کہ جب بھی آپ کسی کو ڈھونڈ رہے ہوں تو آپ کو اپارٹمنٹ ہاؤس کو گرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان اپارٹمنٹ ہاؤسز میں بہت سے لوگ ہوتے ہیں اور وہ تمام حزب اللہ نہیں ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اسرائیل کو تجویز دی کہ شام کو حزب اللہ کا خیال رکھنے کی اجازت دی جائے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ وہ یہ کام بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ کہ اسرائیلی وزیر اعظمن بنجمن نیتن یاہو کو لبنان کے حوالے سے زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے بغیر اسرائیل کا وجود ممکن نہیں ۔ امریکی صدر نے کہا کہ میرے بغیر اسرائیل نہیں ہوگا، کیونکہ کوئی دوسرا صدر وہ کرنے کو تیار نہیں تھا جو میں نے اسرائیل کے لئے کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ان کے بہت اچھے تعلقات ہیں لیکن اسرائیلی وزیر اعظم کو لبنان کے حوالے سے زیادہ ذمہ دار انہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر اسرائیل لبنان پر حملہ کر دے تو بھی ان کے خیال میں ایران امریکا معاہدہ برقرار رہ سکتا ہے۔لبنان میں جاری جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’میں اسے معمولی جنگ سمجھتا ہوں۔امریکی صدر نے کہا کہ انہیں ایران معاہدے سے کچھ دیر قبل لبنان کےدارالحکومت بیروت پر اسرائیل کا حملہ پسند نہیں آیا تھا اور انہوں نے یہ بات اسرائیلی قیادت پر واضح بھی کر دی تھی۔








