قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث جاری ، حکومتی اراکین کی بجٹ کی تعریف ،اپوزیشن کی تنقید

قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث منگل کو بھی جاری رہی۔ اس دوران حکومتی اراکین نے بجٹ کی تعریف جبکہ اپوزیشن نے تنقید کی۔ اراکین نے امریکہ-ایران امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث منگل کو بھی جاری رہی۔ اس دوران حکومتی اراکین نے بجٹ کی تعریف جبکہ اپوزیشن نے تنقید کی۔ اراکین نے امریکہ-ایران امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے، پاکستان خطے کی طاقت بن کر سامنے آیا ہے، ہمیں قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہوئے ملک کو اندرونی طور پر درپیش چیلنجوں سے بھی نجات دلانا ہو گی۔ منگل کوقومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے پی پی پی کے عبدالقادرپٹیل نے کہاکہ پاکستان نے تیسری عالمی جنگ کوروک کرکارنامہ انجام دیا ہے جو تاریخ میں یادرکھا جائے گا،اس سے قبل پاکستان نے بھارت کودھول چٹائی تھی، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ملک کی سیاسی قیادت اس حوالہ سے لائق ستائش ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی پی پی کاواضح موقف ہے کہ ملکی مفاد کیلئے سارے سودے کریں گے لیکن کسی پارٹی کے مفاد میں کوئی سودا نہیں کریں گے۔عبدالقادرپٹیل نے کہاکہ عوام کو کھانے پینے کی اشیا مل رہی ہوں،بچے سکول جارہے ہوں اورلوگوں کوعلاج کی سہولیات میسرہوں توجی ڈی پی کے اعدادوشمارکوئی بھی ہوں اس سے فرق نہیں پڑتا،اہداف کوحقیقت پسندانہ رکھنا چاہئے،

بالواسطہ ٹیکسوں کابڑابوجھ ملک کے غریب لوگوں پرپڑرہاہے،کم سے کم اجرت کی شرح اورتنخواہوں میں کم اضافہ کیا گیا ہے، فکسڈ ٹیکس کے دائرہ کارمیں اضافہ کیا جائے،سکولوں کی فیس کی شرح کوفکس کیاجائے، بی آئی ایس پی کو بار بار نہ چھیڑا جائے اوراس پرسیاست سے گریز کرناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ بیوروکریسی کوٹی وی پرنہیں جاناچاہئے اوراس کی بجائے وزرا ء کو پالیسی بیانات دینا چاہئیں۔ صومالیہ میں قذاقوں نے 10پاکستانیوں کویرغمال بنایا ہے، سپیکرکو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور وزارت خارجہ سے تفصیلات حاصل کرنی چاہئیں۔ اپوزیشن کے رکن جنیداکبرخان نے کہاکہ جی ڈی پی کے تناسب سے آبادی کی شرح میں بھی اضافہ ہورہاہے،افغانستان کے ساتھ تجارت کاآغاز کیا جائے، دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے جامع اقدامات کئے جائیں ۔ اپوزیشن کے رکن عاطف خان نے کہاکہ سیاست اورمعیشت ایک دوسرے سے جڑے ہیں،باربارآئی ایم ایف کے پاس جانے سے ہماری مشکلات کم نہیں ہوئیں، بجٹ میں عوامی ریلیف کیلئے اقدامات کا فقدان ہے، دعوئوں کے باوجود عوام کی مشکلات کم نہیں ہوئیں،جب تک اشرافیہ کے مفادات کاتحفظ جاری رہے گا

اس وقت تک بہتری نہیں آسکتی۔انہوں نے کہاکہ این ایف سی کے تحت وسائل کی تقسیم آئینی تقاضا ہے،صوبوں سے کٹوتی کی جارہی ہے، بجلی چوری کی روک تھام وفاق کی ذمہ داری ہے، جب تک بجلی کے محکموں کودرست نہیں کیا جاتا ،اس وقت تک بجلی کے مسائل موجودرہیں گے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں سرمایہ کاری کیلئے ہونے والی کوششوں کے خاطرخواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں،سیاسی استحکام سے معیشت بھی بہترہوگی۔ اپوزیشن رکن ثنا ء اللہ مستی خیل نے کہا کہ بجٹ کا 5 فیصد پی ایس ڈی پی کے لئے مختص کیا گیا جو کم ہے، بجٹ کا کل 43 فیصد قرضوں پر سود کی مدد میں رکھے گئے ہیں، ہمارے دور میں شرح نمو 6 فیصد سے زائد تھی، بجٹ میں نوجوانوں کے لئے کچھ نہیں، صنعت اور زراعت کو اس میں تحفظ نہیں دیا گیا، اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں، انڈس ریور پر 3 ارب کا پل بنایا گیا تھا اس کی اپروچ روڈز نہیں بنائی جا رہی۔ ہماری ترقیاتی سکیمیں ادھوری پڑی ہیں ان کو مکمل نہیں کیا جا رہا۔ پیپلز پارٹی کی رکن سحر کامران نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ پر سول وفوجی لیڈر شپ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے دنیا کو بچایا۔ پاکستان کی قومی سلامتی ہماری اولین ترجیح اور فوج کی لازوال قربانیوں پر فخر ہے،صوبوں نے قومی دفاع میں حصہ ڈالا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں فلاحی پہلو کو مدنظر نہیں رکھا گیا،ایف بی آر اہداف پورے کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں پٹرولیم لیوی سے 1.7 کھرب روپے جمع کرنے اور کاربن لیوی کا ہدف 50 ارب روپے ہے جو ایف بی آر کی ناکامی چھپانے کے لئے ہے،پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے ہر چیز مہنگی ہوتی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم اضافہ کیاگیا ہے، پیپلز پارٹی نے 50 فیصد اضافہ تجویز کیا ہے ،اس پر سنجیدگی سے غور کیاجائے۔ پی پی پی کے نعمان شیخ نے کہاکہ وزیراعظم محمدشہبازشریف اور فیلڈمارشل عاصم منیرنے امریکا اورایران کے درمیان جنگ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، بھارت کے خلاف جنگ میں فتح پر ہمیں مسلح افواج پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں میں گیس نہیں ہوتی اورگرمیوں میں بجلی غائب ہوتی ہے، اس ملک کو سیدھے راستے پرگامزن کرنے کی کوششیں اب تک ثمرآور ثابت نہیں ہوئی ہے۔ سکھر حیدر آباد موٹروے منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کے اہداف کوحقیقت پسندانہ ہونا چاہئے، ایسے اہداف مقررکئے جائیں جن کا حصول ممکن ہو۔ انہوں نے بجلی اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کامطالبہ بھی کیا۔ انور تاج نے کہاکہ معاشی استحکام کیلئے قانون کی حکمرانی، سیاسی استحکام اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہو گا، انصاف کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ معیشت سے سود کا خاتمہ ضروری ہے، مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، ضروری اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، امن معاہدے کے بعد پٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں کمی ہونی چاہئے۔ ایم کیوایم کے رکن جاوید حنیف نے کہا کہ ایک طاقتور مقامی حکومتوں کا نظام ضروری ہے، وفاقی اور صوبائی سطح پر کراچی کا ملازمتوں میں کوٹہ نہیں، کے فور کا منصوبہ مکمل کیا جائے،کراچی میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے رکن میاں مصباح الدین نے کہا کہ کے پی کے ضم شدہ اضلاع کے سولر سسٹم کے منصوبے کے بارے میں بتایا جائے کہ اس کا کیا بنا، وزیراعظم سے مطالبہ ہے کہ وہ شمالی وزیرستان کے لئے اعلان کردہ دانش سکول کی منظوری دیں۔ عبدالحکیم بلوچ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کسی بجٹ میں ملکی معیشت کی خرابی کا کبھی نہیں سنا، ہمیشہ بہتری ہی بتائی جاتی، اس میں کوئی شک نہیں کہ بجٹ میں کچھ ریلیف ہے، صنعت،کاروبار اور رئیل سٹیٹ کو ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ قومی یکجہتی سے دفاع مضبوط، معاشی،سیاسی استحکام ہوگا،ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے۔ بلوچستان کیلئے ترقیاتی فنڈز بڑھائے جائیں۔

پی پی پی کی صبا تالپورنے کہاکہ بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ زراعت کے شعبہ کو نظر انداز کیا گیا ہے، غذائی سلامتی کیلئے کسانوں کو ریلیف دینا ضروری ہے، سندھ میں پانی کی قلت ہے، ارسا صوبوں کی جائز ضروریات کو پورا کرنے کی بجائے لنک کینالزکو ترجیح دے رہا ہے، 1991کے پانی کی تقسیم کے معاہدے پرعمل درآمد ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ میں سندھ کے موٹرویز اور ہائی ویز کو نظر انداز کیا گیا ہے جومنصوبے رکھے گئے ہیں اس کیلئے نظام الاوقات نہیں دیا گیا۔ ماروی ٹرین مارچ 2026 سے بند ہے، ریلویز کی پٹڑیوں اور خدمات کو بہتر بنایا جائے۔ ایف بی آر پہلے سے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان پر ٹیکسوں کا بوجھ نہ ڈالے، پٹرولیم لیوی کا ایک حصہ زراعت کے شعبہ کو ریلیف دینے کیلئے استعمال کیا جائے۔ صاحبزادہ صبغت اللہ نے کہا کہ بجٹ سازی میں آئی ایم ایف کی مداخلت کاسلسلہ بند نہیں ہوا ہے، بجٹ کا چالیسواں حصہ سود کی ادائیگی میں جا رہا ہے، سودی نظام کے تحت معیشت ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہاکہ مہنگائی میں اضافہ جبکہ جی ڈی پی گروتھ، بڑی صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات میں کمی آئی ہے، بجٹ کا صرف پانچ فیصد حصہ ترقی کیلئے مختص ہے جو کم ہے، پی ایس ڈی پی میں مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع کیلئے کوئی بڑا منصوبہ شامل نہیں کیا گیا۔ آسیہ اسحاق نے کہاکہ نئے پنشنرزکیلئے نیا فنڈ قائم کیا جائے، اس کیلئے سرمایہ کاری کی جائے، اس سے پنشن بوجھ نہیں بلکہ اثاثہ بن جائیگی۔

پراسیڈ فوڈز، جنک فوڈز اورزیادہ چینی و نمک والی مصنوعات پر ٹیکس ہونا چاہئے، چھوٹے کسانوں پر ٹیکس نہیں ہونا چاہئے، مہنگی پراپرٹی پر زیادہ ٹیکس عائد کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکس کے دائرہ کار میں توسیع ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن نوید جیوا نے کہا کہ پوری قوم کو ہم آہنگی اور اخلاقیات کی ضرورت ہے،اقلیتوں کا بھی پورا حق ہے ان کے لئے بجٹ میں فنڈز نہیں رکھے گئے،اقلیتوں ممبران کے لئے مساوی ترقیاتی فنڈز مختص کئے جائیں۔

 

مزید خبریں