ماہرینِ پانی و ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کی کسی بھی قسم کی معطلی یا خلاف ورزی جنوبی ایشیا میں پانی، خوراک اور ماحولیاتی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی اعدادوشمار کے تبادلے
سندھ طاس معاہدے کی معطلی جنوبی ایشیا میں پانی،خوراک اور ماحولیاتی بحران کو جنم دے سکتی ہے، ماہرین

مزید خبریں
ملتان۔ 16 جون (اے پی پی):ماہرینِ پانی و ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کی کسی بھی قسم کی معطلی یا خلاف ورزی جنوبی ایشیا میں پانی، خوراک اور ماحولیاتی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی اعدادوشمار کے تبادلے، سیلاب کی پیشگی اطلاع اور مشترکہ آبی انتظام کے لیے ایک اہم فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے۔بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے ماہرین نے ’’اے پی پی ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں یکطرفہ علیحدگی کی کوئی شق موجود نہیں، لہٰذا اس میں خلل سے آبی تعاون، سیلابی پیش گوئی اور تکنیکی روابط متاثر ہو سکتے ہیں۔
چیئرمین شعبہ تاریخ ڈاکٹر طراب الحسن نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی بارشوں کے نظام اور زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے، پانی کی فراہمی میں غیر یقینی صورتحال گندم اور چاول سمیت اہم فصلوں کی پیداوار اور غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔پروفیسر ملک عمار یاسر کھاکھی نے کہا کہ پاکستان کا زرعی نظام دریائے سندھ کے آبی ذخائر پر انحصار کرتا ہے،پانی کے بہاؤ میں بے قاعدگی خشک سالی، مہنگائی اور دیہی آبادی کی مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ماہرین نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کا تحفظ اور مضبوطی خطے میں ماحولیاتی موافقت، آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔








