نوجوانوں کو صنعتی انقلاب 4.0 اور 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے یونیورسٹی ڈگری پروگراموں کا فوری جائزہ لیا جائے، وفاقی وزیر احسن اقبال کی ہدایت

نوجوانوں کو صنعتی انقلاب 4.0 اور 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے یونیورسٹی ڈگری پروگراموں کا فوری جائزہ لیا جائے، وفاقی وزیر احسن اقبال کی ہدایت

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو ہدایت جاری کی ہے کہ پاکستان بھر کی جامعات میں رائج تمام ڈگری پروگراموں اور نصاب کا فوری اور جامع جائزہ لیا جائے تاکہ اعلیٰ تعلیم کے نظام کو صنعتی انقلاب 4.0 اور ابھرتے ہوئے صنعتی انقلاب 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔

اپنی پالیسی ہدایت میں وفاقی وزیر نے زور دیا کہ پاکستان کی مستقبل کی مسابقتی صلاحیت اس امر سے وابستہ ہے کہ نوجوانوں کو ایسی تعلیم، مہارتیں اور صلاحیتیں فراہم کی جائیں جو تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی ٹیکنالوجی اور جدت پر مبنی عالمی معیشت میں کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، روبوٹکس، آٹومیشن، بائیوٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ، جدید مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں ہونے والی غیر معمولی پیش رفت دنیا بھر میں روزگار کی نوعیت کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے روایتی پیشے غیر متعلق ہوتے جا رہے ہیں جبکہ نئے شعبے اور روزگار کے مواقع جنم لے رہے ہیں جس کے باعث اعلیٰ تعلیم کے نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ دنیا پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے بدل رہی ہے۔ جامعات اب طلبہ کو ماضی کی ملازمتوں کے لیے تیار نہیں کر سکتیں بلکہ انہیں مستقبل کے مواقع اور چیلنجز کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ایسی ڈگریاں جو روزگار، اختراع، کاروباری صلاحیت یا قومی مسابقت میں اضافہ نہ کریں، ان کا ازسرنو جائزہ لے کر اصلاحات کرنا ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان ایسی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا جہاں جامعات ایسے شعبوں میں گریجویٹس تیار کرتی رہیں جن کی مستقبل کی معیشت میں محدود اہمیت ہو جبکہ صنعتوں کو ابھرتے ہوئے شعبوں کے لیے مطلوبہ ہنرمند افرادی قوت دستیاب نہ ہو۔

ہدایات کے مطابق ایچ ای سی تمام ڈگری پروگراموں کا جائزہ روزگار کے مواقع، صنعتی ضروریات سے مطابقت، قومی ترقیاتی ترجیحات، ٹیکنالوجی کے باعث پیدا ہونے والے خطرات اور مستقبل میں عالمی طلب کی بنیاد پر لے گا۔ ایسے پروگرام جن کا نصاب فرسودہ ہو، مارکیٹ میں ان کی اہمیت کم ہو یا ان کے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوں، ان کی تنظیمِ نو، جدیدکاری، انضمام یا مرحلہ وار خاتمے کے لیے سفارشات تیار کی جائیں گی۔احسن اقبال نے مزید ہدایت کی کہ ایچ ای سی ایک اعلیٰ سطحی فیوچر سکلز اینڈ کریکولم ٹرانسفارمیشن ٹاسک فورس قائم کرے جس میں ماہرین تعلیم، صنعت کار، ٹیکنالوجی ماہرین، کاروباری شخصیات اور پالیسی ساز شامل ہوں تاکہ مستقبل کی معیشت کے لیے درکار اصلاحات تجویز کی جا سکیں۔جائزے کے عمل میں مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، آٹومیشن، کوانٹم کمپیوٹنگ، بایو انفارمیٹکس، پریسیژن ایگریکلچر، قابلِ تجدید توانائی، موسمیاتی سائنس، ڈیجیٹل ہیلتھ، اسمارٹ مینوفیکچرنگ، فن ٹیک، انوویشن مینجمنٹ اور دیگر مستقبل پر مبنی شعبوں میں نئے پروگراموں کے اجراء اور توسیع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے یہ بھی ہدایت کی کہ تمام ڈگری پروگراموں میں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو، مصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی آگاہی، ڈیجیٹل مہارتیں، ڈیٹا اینالیٹکس، تنقیدی سوچ، کاروباری صلاحیت، مالیاتی خواندگی، ماحولیاتی شعور اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کو شامل کیا جائے۔انہوں نے اڑان پاکستان وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے، بشرطیکہ انہیں مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتیں اور صلاحیتیں فراہم کی جائیں۔احسن اقبال نے کہاکہ ہمارا مقصد اعلیٰ تعلیم کو صرف ڈگریاں دینے والے نظام سے نکال کر ایک ایسے ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ ایکو سسٹم میں تبدیل کرنا ہے جو جدت کاروں، کاروباری شخصیات، محققین، ٹیکنالوجی رہنماؤں اور عالمی سطح پر مسابقتی پیشہ ور افراد کو تیار کرے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کے ہدف کے حصول کے لیے ایسی افرادی قوت درکار ہے جو پیداواریت، معیار، جدت، برآمدات اور تکنیکی ترقی کو آگے بڑھا سکے۔ایچ ای سی سے کہا گیا ہے کہ وہ 60 دن کے اندر موجودہ ڈگری پروگراموں کے جائزے کے لیے قومی آڈٹ فریم ورک، مستقبل کے تقاضوں کے مطابق نئے تعلیمی شعبوں کی سفارشات اور اعلیٰ تعلیم کو قومی ترقیاتی ترجیحات اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع روڈ میپ پیش کرے۔یہ اقدام اڑان پاکستان کے تحت انسانی وسائل کی ترقی کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے جس میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا، جدت کو فروغ دینا اور علم پر مبنی معیشت کی تشکیل کو پاکستان کی طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی کا مرکزی ستون قرار دیا گیا ہے۔

مزید خبریں