عالمی بینک کی جانب سے پنجاب میں ایچ ڈی پی ای لائننگ ٹیکنالوجی اختیارکرنے میں معاونت کی فراہمی جاری

عالمی بینک پنجاب میں سیوریج پائپوں کی خرابی کے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرتے ہوئے ایچ ڈی پی ای لائننگ ٹیکنالوجی اختیارکرنے میں معاونت فراہم کررہاہے جس سے پائپ لائنوں کی متوقع عمر چند دہائیوں کے بجائے 100 سال تک بڑھ سکتی ہے۔

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):عالمی بینک پنجاب میں سیوریج پائپوں کی خرابی کے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرتے ہوئے ایچ ڈی پی ای لائننگ ٹیکنالوجی اختیارکرنے میں معاونت فراہم کررہاہے جس سے پائپ لائنوں کی متوقع عمر چند دہائیوں کے بجائے 100 سال تک بڑھ سکتی ہے۔عالمی بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کے کسی بھی شہر میں نصب کیے جانے والے سیوریج کے روایتی پائپ عموما زیادہ سے زیادہ 25 سال تک کارآمد رہتے ہیں، لیکن پنجاب اب ایسے پائپ نصب کر رہا ہے جن کی متوقع عمر 100 سال ہے۔ بظاہر یہ ایک تکنیکی، غیر نمایاں اور معمولی تبدیلی محسوس ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ گزشتہ کئی دہائیوں میں صوبے کے بنیادی ڈھانچے میں آنے والی اہم ترین اصلاحات میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔

پنجاب سٹیز اِنکلیوسیو پروگرام کے تحت عالمی بینک گروپ نے حکومتِ پنجاب کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا دیرپا حل تلاش کیا۔ بین الاقوامی ماہرین نے دنیا بھر میں استعمال ہونے والی مختلف ٹیکنالوجیز کا جائزہ لیا، جس کے بعد ہائی ڈینسٹی پولی ایتھلین لائننگ کو بہترین حل قرار دیا گیا۔ اس ٹیکنالوجی میں روایتی کنکریٹ کے پائپوں کے اندر ایچ ڈی پی ای کی حفاظتی تہہ لگائی جاتی ہے، جو پائپوں کو زنگ اور کیمیائی خوردگی سے محفوظ رکھتی ہے، پانی کے بہائو کو موثر بناتی ہے، رسائو روکتی ہے اور یوں پائپوں کی عمر بڑھا کر تقریبا 100 سال تک پہنچا دیتی ہے۔

اسی مقصد کے لیے پنجاب حکومت کے انجینئرز اور متعلقہ حکام نے سنگاپور واٹر سینٹر کا دورہ کیا، جہاں دنیا کے جدید ترین سیوریج نظاموں میں اس ٹیکنالوجی کا عملی استعمال دیکھا۔ ا پنجاب سٹیز اِنکلیوسیو پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور واسا لاہور کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر زاہد عزیز نے بتایا کہ سنگاپور کے سیوریج نظام کو قریب سے دیکھنے کے بعد ہمیں اس ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنانے کا بھرپور اعتماد حاصل ہوا۔ حکومتِ پنجاب نے بیرونی سپلائرز پر انحصار کرنے کے بجائے تیزی سے اقدامات کیے، چین سے جدید مشینری اور ٹیکنالوجی درآمد کی اور انتہائی مختصر عرصے میں پاکستان کی پہلی مقامی فیکٹری قائم کر دی، جہاں ایچ ڈی پی ای لائننگ والے کنکریٹ پائپ تیار کیے جا رہے ہیں۔

اس کے نتیجہ میں پاکستان اب وہ مصنوعات مقامی سطح پر تیار کر رہا ہے جنہیں پہلے وہ بڑے پیمانہ پر درآمد کرنا پڑتا تھا ،اس منصوبے کے نتیجے میں ملک میں ایک نئی صنعتی صلاحیت وجود میں آئی ہے۔ درآمدات پر انحصار کم ہونے سے نہ صرف سامان کی فراہمی میں تاخیر اور زرمبادلہ کے دبا میں کمی آئے گی بلکہ جدید سیوریج میٹریل کی مقامی صنعت بھی فروغ پائے گی، جسے مستقبل میں دیگر صوبوں اور مختلف منصوبوں تک بھی وسعت دی جا سکتی ہے۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔