وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے مجوزہ بجٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری بلوچستان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
بلوچستان کابینہ نے نئے مالی سال 2026-27 کے مجوزہ دستاویزات کی منظوری دے دی

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 17 جون (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے مجوزہ بجٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری بلوچستان، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ دستاویزات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد صوبائی کابینہ نے متفقہ طور پر بجٹ کی منظوری دے دی۔ کابینہ کو بجٹ کے مختلف پہلوؤں، ترقیاتی ترجیحات، مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے بلوچستان کے بجٹ کا مجموعی حجم 1089 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 797 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی صوبائی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے لیے 206 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ترقیاتی پروگرام کے تحت نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 106 ارب روپے جبکہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ صوبے میں جاری ترقیاتی عمل کو مزید مؤثر اور تیز بنایا جا سکے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ وفاقی فنڈڈ منصوبوں (Federal Funded Projects) کی مد میں 45 ارب روپے جبکہ فارن پراجیکٹ اسسٹنس (FPA) کی مد میں 40 ارب روپے بھی دستیاب ہوں گے، جو صوبائی ترقیاتی پروگرام کے علاوہ ہوں گے۔ ان اضافی وسائل کی بدولت بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، آبنوشی، مواصلات، زراعت، توانائی اور دیگر اہم شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد مزید مؤثر انداز میں ممکن ہو سکے گا ۔ کابینہ کو صوبائی آمدنی میں اضافے کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران صوبائی محصولات میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے صوبائی آمدنی کو 170 ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے محصولات کے نظام میں اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے محدود وسائل کے باوجود ایک متوازن، حقیقت پسندانہ اور عوام دوست بجٹ تیار کیا ہے جس کا بنیادی مقصد بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود، پائیدار ترقی، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی بہتری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور صوبے کی معاشی بنیادوں کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو صحت، تعلیم، صاف پانی، بہتر انفراسٹرکچر اور روزگار کی فراہمی ہے۔ ترقیاتی پروگرام میں ان شعبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے تاکہ عوامی مسائل کے دیرپا حل کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے وسائل کے شفاف اور مؤثر استعمال کو یقینی بنائے گی ۔ اجلاس کے اختتام پر صوبائی کابینہ نے بجٹ تجاویز کی منظوری دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ کابینہ نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ صوبے کی ترقیاتی ضروریات، عوامی توقعات اور معاشی استحکام کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور یہ بلوچستان کی پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔








