پارلیمنٹ کو عوامی مسائل کے حل اور قومی وسائل کے موثر استعمال پر خصوصی توجہ دینی چاہئے، سینیٹر سیف اللہ ابڑو

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے قومی معیشت، توانائی کے شعبے اور مالی نظم و ضبط سے متعلق مختلف امور پر زور دیا ہے کہ پارلیمنٹ کو عوامی مسائل کے حل اور قومی وسائل کے موثر استعمال پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے قومی معیشت، توانائی کے شعبے اور مالی نظم و ضبط سے متعلق مختلف امور پر زور دیا ہے کہ پارلیمنٹ کو عوامی مسائل کے حل اور قومی وسائل کے موثر استعمال پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ بدھ کو سینیٹ میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سینیٹ ملک کا ایک اہم آئینی ادارہ ہے اور اراکین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی مفادات کے تحفظ اور عوامی فلاح کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر معیشت، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں جیسے اہم قومی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کے حل کیلئے طویل المدتی اور جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں میں کمی، ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو قومی ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔ توانائی کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ابڑو نے کہا کہ بجلی اور پٹرولیم کے شعبوں میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور ان شعبوں میں کارکردگی بہتر بنا کر قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور موثر نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عوامی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنانا پارلیمنٹ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے حکومت اور اپوزیشن دونوں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد میں مل کر کام کریں اور معیشت کو مستحکم بنانے، توانائی کے مسائل حل کرنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور اگر قومی وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لایا جائے تو ملک معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ سینیٹر ابڑو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ کو عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے مزید فعال اور نتیجہ خیز کردار ادا کرنا ہوگا۔