برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے امریکہ کی جانب سے برازیلی مصنوعات پر نئے محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکی کو "غیر ذمہ دارانہ اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات کے منافی ہے۔
برازیل نے نئی امریکی ٹیرف دھمکی کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا

مزید خبریں
ریو ڈی جنیرو۔18جون (اے پی پی):برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے امریکہ کی جانب سے برازیلی مصنوعات پر نئے محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکی کو "غیر ذمہ دارانہ اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات کے منافی ہے۔شنہوا کے مطابق فرانس کے شہر ایویان-لے-بین میں جی 7 سربراہی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر لولا نے کہا کہ امریکاکا حالیہ اقدام ان مذاکرات کے برخلاف ہے جو دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ برازیل کے ساتھ ایسا کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔
صدر لولا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے برازیلی مصنوعات پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے، جس سے برازیلی حکام اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔برازیلی صدر نے زور دیا کہ دونوں حکومتوں کے درمیان قائم سفارتی اور تجارتی ذرائع کے ذریعے مذاکرات کا عمل جاری ہے، اس لیے فی الحال کسی دوطرفہ ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔تاہم انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ مذاکرات سے اطمینان بخش نتائج حاصل نہ ہوئے تو وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ براہِ راست رابطے کے لیے بھی تیار ہیں۔








