پاکستان کے صوبوں میں بلوچستان نے سکول سے باہر بچوں کی شرح میں سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی جہاں یہ شرح 2023ء میں 69 فیصد سے کم ہو کر 2025ء میں 45 فیصد رہ گئی۔
بلوچستان میں سکول سے باہر بچوں کی شرح میں نمایاں کمی، دو سال میں 69 سے 45 فیصد تک آگئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):پاکستان کے صوبوں میں بلوچستان نے سکول سے باہر بچوں کی شرح میں سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی جہاں یہ شرح 2023ء میں 69 فیصد سے کم ہو کر 2025ء میں 45 فیصد رہ گئی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ملک بھر میں سکولوں میں شرکت کے رجحان میں بہتری دیکھی گئی ہے جبکہ سکول سے باہر بچوں کی قومی شرح 2023ء میں 38 فیصد سے کم ہو کر 2025ء میں 28 فیصد رہ گئی۔ دستاویزات کے مطابق زیر جائزہ مدت کے دوران لڑکوں میں یہ شرح 35 فیصد سے کم ہو کر 25 فیصد اور لڑکیوں میں 42 فیصد سے کم ہو کر 31 فیصد رہ گئی۔بلوچستان نے تمام صوبوں میں سب سے نمایاں بہتری حاصل کی اور سکول سے باہر بچوں کی شرح میں 24 فیصد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی۔پ
نجاب میں یہ شرح 32 فیصد سے کم ہو کر 21 فیصد، سندھ میں 47 فیصد سے کم ہو کر 39 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی۔بلوچستان میں اس بہتری کے ساتھ تعلیم کے دیگر اشاریوں میں بھی نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ 10 سال یا اس سے زائد عمر کی آبادی میں وہ افراد جنہوں نے کبھی سکول میں تعلیم حاصل کی، ان کا تناسب 2018-19 میں 39 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 51 فیصد ہو گیا۔ مردوں میں یہ شرح 52 فیصد سے بڑھ کر 66 فیصد جبکہ خواتین میں 24 فیصد سے بڑھ کر 34 فیصد ہو گئی جو صوبے میں تعلیم تک رسائی کے وسیع تر مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔صوبے میں تعلیمی حصول کے اشاریوں میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ 10 سال یا اس سے زائد عمر کے ایسے افراد کا تناسب جنہوں نے کم از کم ابتدائی تعلیم مکمل کی، 2018-19 میں 31 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 42 فیصد ہو گیا۔
یہ زیر جائزہ مدت کے دوران تمام صوبوں میں نسبتاً سب سے بڑا اضافہ تھا۔دستاویزات کے مطابق بلوچستان میں سکولوں میں داخلے کے اشاریے بھی بہتر ہوئے ہیں۔ ابتدائی سطح پر مجموعی داخلہ شرح (جی ای آر) 59 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ مڈل اور میٹرک سطح پر یہ شرح بالترتیب 43 فیصد اور 40 فیصد رہی۔ مختلف تعلیمی سطحوں پر طالبات کی شرکت میں بھی مسلسل بہتری دیکھی گئی۔دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی تعلیم تک رسائی بڑھانے اور سکولوں میں شرکت کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کی عکاس ہے۔ زیر جائزہ مدت کے دوران 10 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی شرح خواندگی بھی 61 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی جبکہ دیہی علاقوں اور خواتین کی شرح خواندگی میں بہتری نے مجموعی پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا۔








