قومی اسمبلی میں بجٹ پرعام بحث جاری، اراکین کی سبسڈی کے نظام کو محدود کرنے کی بجائے ان پٹس کی قیمتوں میں براہ راست ریلیف دینے،توانائی ضروریات کے حل کیلئے علاقائی تعاون اور معاہدوں کو مزید فعال بنانے کی سفارش

قومی اسمبلی میں بجٹ پرعام بحث جاری، اراکین کی سبسڈی کے نظام کو محدود کرنے کی بجائے ان پٹس کی قیمتوں میں براہ راست ریلیف دینے،توانائی ضروریات کے حل کیلئے علاقائی تعاون اور معاہدوں کو مزید فعال بنانے کی سفارش

اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پرعام بحث جمعرات کوبھی جاری رہی،اراکین نے ٹیکس اصلاحات، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو، مالی خسارے میں کمی، آبادی، صحت، تعلیم اور غذائی تحفظ جیسے بنیادی مسائل پر فوری توجہ دینے کی ضرورت پرزوردیا،اراکین نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اورپنشن میں اضافہ، گورننس میں بہتری، برآمدات میں اضافہ اورزرعی شعبہ کیلئے جامع اقدامات کی تجاویز دیں،بحث کے دوران اراکین نے سبسڈی کے نظام کو محدود کرنے کے بجائے ان پٹس کی قیمتوں میں براہ راست ریلیف دینے اورپاکستان کی توانائی ضروریات کے حل کے لیے علاقائی تعاون اور معاہدوں کو مزید فعال بنانے کی سفارش کی۔ جمعرات کوقومی اسمبلی میں بجٹ پرعام بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن کے رضاعلی گیلانی نے کہاکہ توانائی کی قیمتوں میں کمی ہونی چاہیے،کیپسٹی ادائیگیوں کے مسئلہ کاپائیدارحل تلاش کیاجائے،غریب عوام کے مفادات کاتحفظ اورانہیں انصاف کی فراہمی کویقینی بنایاجائیگا۔

انہوں نے کہاکہ بجٹ میں زراعت کے شعبہ کو نظر انداز کیا گیا ہے، زراعت کی ترقی اورکسانوں کی بہبودکیلئے اقدامات کئے جائے،حکومت اپنی بجٹ تقریر کی تعریف کر رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ عوام مہنگائی اور معاشی مشکلات سے دوچارہیں ۔ کسان، مزدور اور تنخواہ دار طبقہ مشکلات کا شکار ہیں۔ مسلسل پانچویں بجٹ کے باوجود کسان اس حال میں پہنچ چکا ہے کہ اگلی فصل کی کاشت بھی قرض لے کر کر رہا ہے۔اسدعالم نیازی نے کہاکہ پاکستان نے قومی قیادت اور مسلح افواج کی موثر حکمت عملی سے دفاعی محاذ پر تاریخی کامیابی حاصل کی اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے، مگر اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ بجٹ اگرچہ مشکل معاشی حالات میں پیش کیا گیا لیکن عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔ تنخواہوں میں معمولی اضافہ مہنگائی کے مقابلے میں ناکافی ہے جبکہ عام آدمی خوراک، روزگار اور مہنگائی سے پریشان ہے۔ حکومت کو ٹیکس اصلاحات، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو، مالی خسارے میں کمی، آبادی، صحت، تعلیم اور غذائی تحفظ جیسے بنیادی مسائل پر فوری توجہ دینی ہوگی تاکہ پائیدار معاشی ترقی ممکن ہو سکے۔

انہوں نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات پرلیوی میں کمی جائیگی،زراعت اورکسانوں کیلئے اقدامات کئے جائے، معاشرے کے معاشی طور پر کمزور طبقات کے ریلیف کیلئے فنڈز میں اضافہ کیاجائے۔اپوزیشن کے شہریارآفریدی نے کہاکہ سودی نظام کی وجہ سے ہماری معیشت درست نہیں ہوسکتی،اس نظام کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔انہوں نے کہاکہ سیاسی آزادی کیلئے معاشی آزادی اورخودمختاری ضروری ہے ۔انہوں نے کہاکہ معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں اضافے سے لوگ مشکلات کاشکارہیں ۔ بجٹ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے شرائط کے تحت تیار کیا گیا ہے، لاکھوں پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان، کشمیر اور دیگر محروم علاقوں کو ترقیاتی منصوبوں، وسائل اور بنیادی سہولتوں میں ان کاحصہ دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو عوامی مسائل، انصاف، صوبوں کے حقوق، امن و امان، روزگار، صحت اور تعلیم پر توجہ دینی چاہیے تاکہ ملک حقیقی معنوں میں ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

پی پی پی کے نذیراحمدبوگھیوں نے کہاکہ وہ افواجِ پاکستان اور خاص طور پر ان کی اعلی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ملک کے دفاع اور استحکام کے لیے موثر کردار ادا کیا۔ حالیہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ مہنگائی کے تناسب سے ناکافی ہے۔ موجودہ مہنگائی کی شرح کو دیکھتے ہوئے کم از کم 15 سے 20 فیصد اضافہ ضروری تھا تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو حقیقی ریلیف مل سکے زرعی شعبہ پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے لیکن بدقسمتی سے پالیسی سازی میں خطوں کے درمیان توازن نظر نہیں آتا۔ سندھ، جنوبی پنجاب اور دیگر زرعی علاقوں کی ضروریات مختلف ہیں۔ سندھ میں بوائی کا موسم پنجاب سے پہلے شروع ہوتا ہے، لیکن پانی کی فراہمی اور پالیسیوں میں یہ فرق مدنظر نہیں رکھا جاتا۔ زرعی پالیسیوں کو علاقائی حقائق کے مطابق ترتیب دیا جائے تاکہ لوئر سندھ، مڈل سندھ، اپر سندھ اور دیگر زرعی بیلٹس کے کاشتکار یکساں طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔ پانی کی بروقت فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ فصلوں کے اوقات متاثر نہ ہوں۔ زرعی ان پٹس جیسے بیج، ٹریکٹر، کھاد اور دیگر مشینری پر ٹیکسز کم کیے جائیں۔

اس وقت کھاد کی قیمتیں، خصوصا ڈی اے پی اور یوریا، انتہائی بڑھ چکی ہیں جس سے کاشتکار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بہتر یہ ہوگا کہ سبسڈی کے نظام کو محدود کرنے کے بجائے ان پٹس کی قیمتوں میں براہ راست ریلیف دیا جائے۔بی آئی ایس پی کے تحت حکومت کی جانب سے غریب طبقے کے لیے فنڈز میں اضافہ ایک مثبت قدم ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی توانائی ضروریات کے حل کے لیے علاقائی تعاون اور معاہدوں کو بھی مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ گیس اور توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔اسی طرح سکھر-حیدرآباد-کراچی موٹروے جیسے اہم منصوبے میں تاخیر تشویشناک ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل میں سست روی سے لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوامی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ اسامہ احمدمیلہ نے کہاکہ جنوبی افریقہ میں پاکستانیوں کے خلاف نسلی پروفائلنگ کانوٹس لیا جائے،اطلاعات کے مطابق جنوبی افریقہ میں کئی پاکستانیوں کو نسلی پروفائلنگ کے دوران شہیدکیاگیاہے،وزارت خارجہ کو اس صورتحال کانوٹس لینا چاہیے۔

بی آئی ایس پی کے بجٹ میں اضافہ خوش آئند ہے۔انہوں نے کہاکہ بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی ملکی معیشت کی بنیادہے،انہیں سہولیات کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ علاقائی تجارت میں اضافہ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کودورکیاجائے،علاقائی تجارت کے بغیرہماری برآمدات متاثرہورہی ہے۔انہوں نے کہاکہ 18ویں ترمیم کے تحت 17وزارتیں صوبوں کومنتقل کردی گئی ہے مگراس کے باوجوداخراجات میں اضافہ ہورہاہے،صوبوں سے پیسہ لینے سے ہمارے مسائل حل نہیں ہوسکتے اس کیلئے پائیدارحل تلاش کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ زراعت اورزرعی شعبہ کی مشکلات کاازالہ کیا جائے۔پی پی پی کی نتاشہ دولتانہ نے کہاکہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی عمل کو کامیاب بنانے میں مثبت کرداراداکرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مبارکباد کے مستحق ہے ،انہوں نے کہاکہ بجٹ عوام کی توقعات کے مطابق نہیں ، ٹیکسوں اور بلوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ عوام کی آمدنی اور قوتِ خرید میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

جب عوام کا نظام پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے تو نہ صرف ٹیکس کلیکشن متاثر ہوتی ہے بلکہ سرمایہ کاری بھی کم ہو جاتی ہے اور نوجوان بہتر مواقع کی تلاش میں بیرون ملک جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں 10، 20 یا 30 سالہ قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک جامع نیشنل ڈویلپمنٹ فریم ورک تشکیل دینا ہوگا جو سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو اور تسلسل کے ساتھ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھے۔ ہمیں طویل المدتی وژن اپنانا ہوگا تاکہ ملک مستقل ترقی کی طرف بڑھ سکے۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ ایک مثبت قدم ضرور ہے لیکن موجودہ مہنگائی کے تناسب سے یہ ناکافی ہے۔ اسی طرح مڈل کلاس شدید دبائو کا شکار ہے۔ نوجوان بے روزگاری، اساتذہ کم تنخواہوں اور چھوٹے کاروباری افراد مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اداروں کی اصلاح ضرور ہونی چاہیے، لیکن غیر ضروری یا جلد بازی میں نجکاری سے ملک کے اسٹریٹجک ادارے متاثر ہو سکتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ قومی اداروں کا تحفظ ہو اور انہیں بغیر سوچے سمجھے فروخت نہ کیا جائے ۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں وسائل کی کوئی کمی نہیں، اصل کمی نیت، تسلسل اور بہتر گورننس کی ہے۔ اگر ہم درست سمت اور طویل المدتی منصوبہ بندی اختیار کریں تو پاکستان ترقی کر سکتا ہے۔ خواجہ شیرازمحمود نے کہاکہ میں آسٹریلین لڑکی کی وفات پر اظہارِ افسوس اور اہلِ خانہ سے ہمدردی کی اور اس واقعے پر سنجیدہ کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ ان کے حلقے تونسہ شریف میں حالیہ خودکش حملے میں ایلیٹ فورس کے دو اہلکار شہید اور کئی شہری زخمی ہوئے۔ یہ سکیورٹی کی سنگین صورتحال ہے جس پر فوری توجہ ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ نیشنل پاورٹی لائن کی تعریف اور معاشی پالیسیاں زمینی حقائق سے دور ہیں۔ گندم اور اجناس کی ترسیل کو سمگلنگ کہنا بھی غیر منصفانہ ہے، جس سے کسان اور عام شہری متاثر ہوتے ہیں ،صحت، تعلیم اور فوڈ سکیورٹی کے شعبے شدید مسائل کا شکار ہیں جبکہ بڑے بڑے ترقیاتی اور صفائی منصوبوں کے باوجود عوام کو خاطر خواہ ریلیف نہیں مل رہا۔

انہوں نے کہاکہ ملک کو اس وقت گورننس، پانی کی کمی اور پالیسیوں کے تسلسل جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن کے حل کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔صوفیہ سعیدشاہ نے فیلڈمارشل عاصم منیر اوروزیراعظم شہباز شریف کو ملک کو مشکل صورتحال سے نکالنے میں کردار ادا کرنے پرمبارکباددی ۔ انہوں نے کہاکہ علاقائی بحران کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس کا بوجھ عوام پر پڑا، اس لیے اب فوری طور پر قیمتوں میں کمی کی جانی چاہیے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔انہوں نے کہاکہ بجٹ میں بڑی رقم قرضوں کے مارک اپ اور ادائیگیوں میں جا رہی ہے جس سے ترقیاتی کام متاثر ہو رہے ہیں۔ بی آئی ایس پی کے تحت مختص رقوم کے بجائے اگر تعلیم اور اسکل ڈویلپمنٹ پر سرمایہ کاری کی جائے تو زیادہ دیرپا فائدہ ہوگا۔، ایف بی آر اصلاحات کے باوجود کاروباری طبقے کو مشکلات کا سامنا ہے، اور ٹیکس نظام میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ اسی طرح آئی پی پیز، پنشن اور انرجی سیکٹر کے اخراجات بھی معیشت پر بڑا بوجھ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ خواتین کی ترقی کے لیے بجٹ میں واضح فنڈنگ کی کمی ہے حالانکہ وہ آبادی کا بڑا حصہ ہیں۔ پالیسیوں میں شفافیت اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔پی پی پی کی عاصمہ ارباب عالمگیرنے کہاکہ خیبرپختونخوا کے لوگوں کوامن اورتحفظ دینا ضروری ہے،صوبہ کوجامع روڈمیپ درکارہے،صوبائی حکومت عوام کوتحفظ فراہم نہیں کرسکتی،امن کے بغیرترقی ممکن نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہاکہ ہم اپنے بچوں کوپولیوکے قطرے تک نہیں پلاسکتے،ہم وفاقی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے جانیں قربان کرنے والوں کیلئے فنڈز مختص کرنا چاہیے، شہدا کے خاندانوں کوریلیف فراہم کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہاکہ معدنیات اورکان کنی ملک کااستقبال ہے تاہم بجٹ میں اس شعبہ کیلئے کوئی مراعات نہیں دی گئی، پاکستان معدنیات کی دولت سے مالامال ہے جس کی حقیقی استعدادسے فائدہ اٹھانا وقت کی ضرورت ہے،اس شعبہ کیلئے خصوصی ترغیبات دینا چاہئے۔

مزید خبریں