وزیر مملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران 35 لاکھ دکاندار ٹیکس نیٹ میں داخل ہوں گے، حکومت نے تنخواہ دار طبقے، کسان، صنعتکار، ایکسپورٹر اور ہر پاکستانی شہری کے مفادات کے مطابق متوازن بجٹ دیا ہے، بجٹ سے ملکی معیشت مضبوط ہو گی۔
حکومت نے تنخواہ دار طبقے، کسان، صنعتکار، ایکسپورٹر اور ہر پاکستانی شہری کے مفادات کے مطابق متوازن بجٹ دیا ہے، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کا قومی اسمبلی میں اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران 35 لاکھ دکاندار ٹیکس نیٹ میں داخل ہوں گے، حکومت نے تنخواہ دار طبقے، کسان، صنعتکار، ایکسپورٹر اور ہر پاکستانی شہری کے مفادات کے مطابق متوازن بجٹ دیا ہے، بجٹ سے ملکی معیشت مضبوط ہو گی۔
جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہاکہ وہ پورے ایوان اور قوم کے ساتھ وزیرِاعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ ونائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جن کی کاوشوں کی بدولت آج پاکستان کو عالمی سطح پر عزت ملی اور اسلام آباد انڈرسٹینڈنگ کے ذریعے پاکستان نے جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا جس پر پوری دنیا شکر گزار ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ درحقیقت ایک عوامی بجٹ ہے۔ یہ تنخواہ دار طبقے، کسان، صنعتکار، ایکسپورٹر اور ہر پاکستانی شہری کا بجٹ ہے، وزیرِاعظم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم پہلے معاشی استحکام لائیں گے اور پھر بہتری دیں گے۔ الحمدللہ، اس بجٹ میں وہ بہتری واضح نظر آ رہی ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ فروری 2024 میں جب حکومت آئی، تو معاشی حالات نہایت مشکل تھے۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ یہ حکومت چند ماہ بھی نہیں چل سکے گی۔ مگر وزیرِاعظم کی قیادت میں نہ صرف معیشت کو سنبھالا گیا بلکہ مہنگائی میں کمی آئی، زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھے اور آئی ایم ایف پروگرام بھی کامیابی سے طے ہوا، ناقدین نے کہا کہ اہداف پورے نہیں ہوں گے اور منی بجٹ آئے گا، مگر حکومت نے مالی سال 2025 میں تمام اہداف حاصل کیے اور کوئی منی بجٹ نہیں لایا۔
انہوں نے کہاکہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا ہے، 22 سے 23 لاکھ آمدن والوں کے لیے ٹیکس 23 سے کم کر کے 20 کر دیا گیا، 32 سے 41 لاکھ والوں کے لیے 30 سے کم کر کے 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ والوں کے لیے 35 سے کم کر کے 29 فیصد اور 56 سے 70 لاکھ روپے کمانے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 سے کم کر کے 32 کردی گئی ہے، اس کے ساتھ ساتھ سپر ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ایکسپورٹرز کے لیے ٹیکس کم کیا گیا تاکہ ان کی لاگت کم ہو اور مسابقت بڑھے۔ آئی ٹی انڈسٹری کے لیے 0.25 ٹیکس سہولت مزید تین سال کے لیے بڑھا دی گئی،تعمیراتی شعبہ کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنے گھر بنانے میں سہولت ملے۔
اپنا گھر اسکیم کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت شہری کم شرح سود پر قرض لے سکتے ہیں۔ وزیر مملکت نے کہاکہ زرعی شعبے کیلئے 300 ارب روپے دئیے جائیں گے، وزیراعظم ایگریکلچر یوتھ اسکیم کے تحت 110 ارب روپے کے فنڈزمختص ہیں، زرعی مشینری پر ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے۔ خواتین کی ضروری مصنوعات اور فیملی پلاننگ مصنوعات پر سیلز ٹیکس ختم کردیا گیا ہے، شپنگ انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے بھی سیلز ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے تاکہ پاکستان اپنی تجارتی صلاحیت کو بہتر بنا سکے۔
انہوں نے کہاکہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے نئی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے چھوٹے دکاندار 20 کروڑ تک سیل والے دکاندارصرف 1 فیصد ٹیکس دیں گے،ان کی سادہ اردو فارم کے ذریعے رجسٹریشن ہو گی، انہیں ایف بی آر کی جانب سے سبز پلیٹ دی جائے گی اور عام حالات میں ان کا آڈٹ نہیں ہوگا، اس اسکیم کا مقصد 35 لاکھ دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ تمام بزنس تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس بجٹ کو سراہا۔








