معاشی استحکام کی بنیادپر حکومت نے نمو پر مبنی وفاقی بجٹ پیش کیا، خرم شہزاد
معاشی استحکام کی بنیادپر حکومت نے نمو پر مبنی وفاقی بجٹ پیش کیا، خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ معاشی استحکام کی بنیادپر حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے اقتصادی نمو پرمبنی بجٹ پیش کیاہے ، بجٹ میں عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور مالیاتی نظم و ضبط کے درمیان متوازن حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے۔انہوں نے یہ بات جمعہ کویہاں انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاونٹنٹس آف پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ پوسٹ بجٹ کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔خرم شہزادنے کہاکہ بجٹ مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی پالیسی کی عکاسی کررہاہے ،کارپوریٹ سیکٹر، تنخواہ دار طبقے، زرعی شعبے، برآمد کنندگان، صنعت اور تعمیراتی شعبے کے لیے دیے گئے ریلیف سے مجموعی قومی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ خرم شہزاد نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ برآمدات پر عائد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ برآمدی آمدن پر ٹیکس کی شرح تقریبا نصف کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ایکسپورٹ فنانسنگ پر شرحِ سود 4.5 فیصد پر برقرار رکھی گئی ہے، حالانکہ مارکیٹ میں شرحِ سود 12 فیصد سے زائد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 150 ملین سے 500 ملین روپے سالانہ منافع کمانے والے کاروباری اداروں پر عائد 10 فیصد سپر ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ 500 ملین روپے سے زائد منافع کمانے والے اداروں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے،زرعی شعبے کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں زرعی قرضوں اور زرعی درآمدات پر ڈیوٹیز کا خاتمہ، اور چھوٹے کاشتکاروں کو بغیر ضمانت اور رعایتی شرحِ سود پر قرضوں کی فراہمی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تعمیراتی شعبے کو بھی ٹیکس میں ریلیف دیا گیا ہے، جبکہ صنعتی ترقی کو فروغ دینے اور تنخواہ دار طبقے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔
یہ تمام اقدامات پائیدار بنیادوں پر معاشی نمو کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ خرم شہزاد نے کہا کہ مالیاتی خسارہ، جو 2022 میں ریکارڈ 8 فیصد تک پہنچ گیا تھا، اب مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں کم ہو کر 0.7 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ جاری کھاتہ بھی سرپلس میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان بہتریوں سے ملکی معیشت کی بیرونی اور اندرونی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، اور اسی معاشی استحکام کی بدولت حکومت ایک ترقی پسند اور نمو پر مبنی بجٹ پیش کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ خرم شہزاد نے کہا کہ ٹیکس محصولات کے اہداف قدرتی معاشی نمو، ٹیکس نیٹ میں توسیع، بہتر تعمیل اور موثر نفاذ کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔
حکومت اب ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے اصول پر استوار کر رہی ہے، جس کے لیے نیا فیس لیس ٹیکس آپریٹنگ ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے، ٹیکس نظام سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات کا عمل مسلسل جاری ہے۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات ریکارڈ 4.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ اسی عرصے میں فری لانسرز نے 1.6 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان نے درست سمت کا تعین کر لیا ہے اور ملک کے پاس آگے بڑھنے کی صلاحیت بھی موجود ہے اور پختہ عزم بھی۔ کانفرنس میں کارپوریٹ سیکٹر کے رہنماؤں، کاروباری شخصیات، ممتاز ماہرین، اعلی سرکاری حکام، معزز شخصیات اور انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاونٹنٹس آف پاکستان کے اراکین نے شرکت کی۔








