خیبرپختونخواحکومت کی جانب سے سالانہ ترقیاتی پروگرام اے ڈی پی میں 6 ارب روپے سے زائد لاگت کے 33 میگامنصوبے شامل

خیبرپختونخوا حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام اے ڈی پی میں 6 ارب روپے سے زائد لاگت کے 33 میگامنصوبے شامل کر لیے ہیں

پشاور۔ 19 جون (اے پی پی):خیبرپختونخوا حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام اے ڈی پی میں 6 ارب روپے سے زائد لاگت کے 33 میگامنصوبے شامل کر لیے ہیں جن کی مجموعی تخمینہ لاگت 312 ارب 95 کروڑ 34 لاکھ روپے بنتی ہے ،منصوبوں میں ڈیموں کی تعمیر، سڑکوں کے بڑے منصوبے، صحت و تعلیم کے شعبوں کی بہتری، سیکیورٹی انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور ضم شدہ اضلاع کی ترقی کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے ،دستاویزات کے مطابق بارا ڈیم ضلع خیبر 36 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت کے ساتھ فہرست کا سب سے بڑا منصوبہ ہے ،اس کے بعد سکیورٹی چیلنجز سے متاثرہ اضلاع میں پولیس، سی ٹی ڈی، ضلعی انتظامیہ اور عدلیہ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 20 ارب روپے کا خصوصی منصوبہ شامل کیا گیا ہے۔پشاور کی یونیورسٹی روڈ پر ،رام داس چونگی اور لاہوری چوک انڈر پاسز کی تعمیر کے لیے 14 ارب روپے جبکہ ضم شدہ اضلاع میں گھروں کی سولرائزیشن کے لیے 13 ارب 32 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ،صحت کے شعبے میں ہزارہ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اینڈ برن سنٹر اور جمرود ہسپتال کو ٹیچنگ ہسپتال میں اپ گریڈ کرنے کے دو الگ منصوبوں پر تقریبا 10،10 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اسی طرح ہری پور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے لیے گرین پبلک ٹرانسپورٹ منصوبہ بھی 9 ارب 90 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کیا جائے گاتعلیم کے شعبے میں ضم شدہ اضلاع کے 130 مڈل سکولوں کو ہائی سکول اور 251 پرائمری سکولوں کو مڈل سکول میں اپ گریڈ کرنے کے منصوبے شامل ہیں جبکہ صوبے میں چیف منسٹر ماڈل سکولز کے قیام اور گریڈ 6 سے 12 تک کے نصاب میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں شاہراہوں اورانفراسٹرکچر کے شعبے میں ایبٹ آباد-مانسہرہ روڈ کی اپ گریڈیشن، سوات ایکسپریس وے فیز ٹو کے لیے اراضی کی خریداری، رنگ روڈ مسنگ لنک، مدین تا کالام روڈ، بٹ خیلہ بائی پاس، نوشہرہ تا چارسدہ روڈ کی ڈوئلائزیشن، ورسک روڈ کی توسیع، چترال میں شوغر تا شاہ سلیم روڈ اور سیاحتی مقامات تک رسائی کے لیے متعدد سڑکوں کی تعمیر شامل ہےپروگرام میں ٹورہ وری ڈیم ہنگو، خان میر کلے ڈیم اورکزئی، جوڈیشل اکیڈمی پشاور،سیف سٹی منصوبہ برائے ضم شدہ اضلاع،سپیشل برانچ پولیس کے علاقائی دفاتر،سنٹر فار میکنگ اینڈ مینوفیکچرنگ اور باجوڑ انٹی گریٹڈ ڈویلپمنٹ پیکیج جیسے منصوبے بھی شامل کئے گئے ہیں۔