سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا ہے کہ فن ٹیک کی سکلز رکھنے والے پروفیشنلز، باخبر سرمایہ کاروں اور مالیاتی شعور رکھنے والے شہریوں کی نئی نسل تیار کرنا پاکستان کے نان بینکنگ فنانشل سیکٹر اور کپیٹل مارکیٹ کو وسعت دینے اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے
مالیاتی شعبے کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق پروفیشنلز تیار کریں گے، چیئرمین ایس ای سی پی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا ہے کہ فن ٹیک کی سکلز رکھنے والے پروفیشنلز، باخبر سرمایہ کاروں اور مالیاتی شعور رکھنے والے شہریوں کی نئی نسل تیار کرنا پاکستان کے نان بینکنگ فنانشل سیکٹر اور کپیٹل مارکیٹ کو وسعت دینے اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ڈاکٹر کبیر انسٹیٹیوٹ آف فنانشل مارکیٹس آف پاکستان (آئی ایف ایم پی) کی کارکردگی اور انسٹی ٹیوٹ میں اصلاحات کے پروگرام کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں ایس ای سی پی کے کمشنر سیکیورٹیز مارکیٹ علی فرید خواجہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمران عنایت بٹ، انسٹی ٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹو مبشر صادق اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے چیئرمین شعیب جاوید حسین بھی شریک ہوئے۔ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ پاکستان کے مالیاتی شعبے کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق فنانشل مارکیٹ کے انسٹی ٹیوٹ کو ازسرِنو منظم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ کو انڈسٹری اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ کا مرکز بنایا جائے گا جو روایتی تربیتی پروگراموں سے آگے بڑھ کر سرمایہ کاروں، مالیاتی ماہرین، مارکیٹ کے اداروں اور طلبہ کے لیے ایک جامع تعلیمی و تربیتی اور اسکلز ڈویلپمنٹ کا پلیٹ فارم فراہم کرے۔ڈاکٹر مبشر صادق نے اجلاس کو ادارے کی موجودہ سرگرمیوں، مالیاتی خود انحصاری کے ماڈل، تربیتی پروگراموں، سرٹیفکیشن کورسز اور مجموعی کارکردگی پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایف ایم پی ایک خود کفیل ادارہ ہے جو بنیادی طور پر پیشہ ورانہ تربیت اور سرٹیفکیشن پروگراموں سے حاصل ہونے والی آمدن پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے ادارے کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ حیثیت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔اجلاس کے دوران جناب شعیب جاوید حسین نے اسٹیٹ لائف اور آئی ایف ایم پی کے درمیان شراکت داری کی تجویز دی تاکہ انشورنس کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد اور فیلڈ فورس کی منظم تربیت کو فروغ دیا جا سکے۔چیئرمین ایس ای سی پی نے اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے ایس ای سی پی اور آئی ایف ایم پی کے حکام کو باہمی تعاون سے ایک جامع اور قابلِ عمل روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ادارے میں اصلاحات کے لیے واضح ترجیحات، ٹائم لائنز اور واضح اہداف مقرر کیے جائیں۔








