خیبر پختونخوا بجٹ 2026-27 کے اہم نکات

پشاور۔ 19 جون (اے پی پی):مالی سال 2026-27 کےلیے خیبر پختونخوا کے بجٹ کے اہم نکات، جن کا اعلان وزیراعلی سہیل آفریدی نے جمعہ کو صوبائی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران کیا۔ 1۔ بجٹ کا کل حجم 2.170 ٹریلین روپے ہے۔ 2۔ سالانہ ترقیاتی بجٹ 524 ارب روپے ہے۔ 3۔ خیبر پختونخوا حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ 4۔ احساس کسان …

پشاور۔ 19 جون (اے پی پی):مالی سال 2026-27 کےلیے خیبر پختونخوا کے بجٹ کے اہم نکات، جن کا اعلان وزیراعلی سہیل آفریدی نے جمعہ کو صوبائی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران کیا۔
1۔ بجٹ کا کل حجم 2.170 ٹریلین روپے ہے۔
2۔ سالانہ ترقیاتی بجٹ 524 ارب روپے ہے۔
3۔ خیبر پختونخوا حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
4۔ احساس کسان پروگرام کےلیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

5۔ خوشحال خیبر پختونخوا پروگرام کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
6۔ محکمہ تعلیم کو 468 ارب روپے ملیں گے۔
7۔ لوکل گورنمنٹ کےلیے 90 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
8۔ زرعی شعبے کےلیے 29 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
09۔ توانائی کے شعبے کو 42 ارب روپے ملیں گے۔
10۔ توانائی کے شعبے کے لیے 14 ارب روپے الگ رکھے گئے ہیں۔

11۔ لوکل گورنمنٹ (محکمہ بلدیات) کو 90 ارب روپے ملیں گے جبکہ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کو 7 ارب روپے ملیں گے۔
12۔ احساس مستحق (ضرورت مند افراد کے لیے امداد) پروگرام کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ ضم شدہ اضلاع کا بجٹ 35 ارب روپے تجویز کیا گیا۔
13۔ پولیس کے لیے 191 ارب روپے اور ایم ٹی آئی ہسپتالوں (میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز) کے لیے 80 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
14۔ صحت کارڈ پروگرام کے لیے 80 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
15۔ یہ 48 ارب روپے کا خسارے کا بجٹ ہے۔

16۔ جاری اخراجات کے لیے 1.645 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
17۔ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے 35 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
18۔ مختص فنڈز میں صحت کے لیے 334 ارب روپے، تعلیم کے لیے 468 ارب روپے، لوکل گورنمنٹ کے لیے 90 ارب روپے، داخلہ امور کے لیے 29 ارب روپے، ٹرانسپورٹ کے لیے 14 ارب روپے، زراعت کے لیے 29 ارب روپے، توانائی کے لیے 42 ارب روپے، اور زکوٰۃ فنڈ کے لیے 28 ارب روپے شامل ہیں۔
19۔ احساس کسان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے، اور بیرون ملک ملازمت کے متلاشیوں کی سہولت کے لیے بلا سود قرضوں کے لیے مزید 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
20۔ اقلیتی برادریوں کے لیے خود انحصاری کے اقدامات کے لیے 51 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
21۔ پشاور ریوائیول پروگرام کے لیے 36 ارب روپے اور خوشحال ہزارہ پروگرام کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
22۔ الیکٹرک بائیکس اور رکشہ اسکیموں کے لیے 2.5 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

23۔ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (آئی ڈی سی) کو 2 فیصد سے کم کر کے 0.75 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
24۔ 5 مرلے تک کے رہائشی اور تجارتی مکانات/پراپرٹیز کے لیے پراپرٹی ٹیکس کی چھوٹ کی تجویز ہے، جس سے تقریباً 200,000 گھرانوں کو فائدہ پہنچے گا۔
25۔ سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے کی مدد کے لیے، بجٹ میں ہوٹل بیڈ ٹیکس کو بھی 7 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
26۔ کم از کم ماہانہ آمدنی کمانے والے افراد پر پروفیشنل ٹیکس کے خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے کم آمدنی والے افراد کو ریلیف ملے گا۔
27۔ بنیادی پے اسکیل (بی پی ایس) 1 سے 6 کے سرکاری ملازمین کو پروفیشنل ٹیکس سے مکمل چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔

28۔ صنعتی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے، حکومت نے صنعتی عمارتوں کے بقایا ٹیکس واجبات پر 30 فیصد رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے صنعت کاروں پر مالی بوجھ کم ہوگا۔
29۔ سابقہ فاٹا اور پاٹا کے لیے موجودہ ٹیکس ریلیف پالیسی برقرار رہے گی۔ مالیاتی سال 2026-27 کے دوران ان علاقوں میں کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا۔