پارلیمانی تاریخ کا انوکھا ریکارڈ: بجٹ بحث میں وزیراعظم، دونوں اپوزیشن لیڈرز اور پارٹی سربراہان سمیت 350 سے زائد اراکین شریک

پارلیمانی تاریخ کا انوکھا ریکارڈ: بجٹ بحث میں وزیراعظم، دونوں اپوزیشن لیڈرز اور پارٹی سربراہان سمیت 350 سے زائد اراکین شریک

خرم شہزاد

اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ پر عام بحث نے ایک منفرد اور تاریخی ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف کے تین مرتبہ ایوان میں آنےسمیت قومی اسمبلی و سینیٹ کے قائدینِ حزبِ اختلاف ، تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور پارلیمانی لیڈرز سمیت 350 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ نے بجٹ کے معاشی ڈھانچے پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اس مرتبہ بجٹ ڈیبیٹ کا سب سے دلچسپ اور معلوماتی پہلو دونوں ایوانوں میں وقت کا استعمال رہا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین (پی ٹی آئی و سنی اتحاد کونسل) اپنے الاٹ کردہ مقررہ وقت کی حد کو پار کرتے ہوئے مجموعی طور پر 5 گھنٹے 9 منٹ زائد وقت تک بولتے رہے جبکہ ایوانِ بالا (سینیٹ) میں اپوزیشن جماعتوں (پی ٹی آئی، سنی اتحاد کونسل، جے یو آئی ف اور اپوزیشن لیڈر) کا مجموعی وقت 5 گھنٹے 1 منٹ ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں حکومتی اور اتحادی اراکین کا اب بھی اڑھائی (2.5) گھنٹے کا وقت باقی ہے جو آنے والے سیشنز میں استعمال کیا جائے گا جبکہ سینیٹ میں حکومتی و اتحادی اراکین اب تک 8 گھنٹے 33 منٹ کا وقت لے چکے ہیں۔قومی اسمبلی میں بجٹ بحث میں اپوزیشن کے 62 اراکین اب تک بجٹ پر جنرل ڈسکشن مکمل کر چکے ہیں اور انہیں دیا گیا وقت ختم ہونے کے باوجود جمہوری روایت کے تحت مزید بولنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اسپیکر کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز پونے پانچ بجے سے مسلسل مائیک حکومتی اراکین کو دینے کے لیے پکارا گیا اور سیشن کو آدھا گھنٹہ لنگر آن بھی کیا گیا تاکہ حکومت کے اراکین اپنے باقی ماندہ اڑھائی گھنٹے کے وقت کو مینج کر سکیں تاہم اب اس باقی وقت کو اگلے مرحلے میں شامل کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے معاشی بحث کا آغاز کرتے ہوئے جہاں حکومت کی معاشی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنایا، وہیں حکومتی وزراء نے بھی ملک کو معاشی بحران سے نکالنے اور ترقیاتی اقدامات کا بھرپور دفاع کیا۔ایوانِ بالا (سینیٹ) میں بھی چار روز تک جاری رہنے والی اس طویل معاشی بحث میں تمام سیاسی جماعتوں کے 115 اراکین نے حصہ لیا، جس کا مجموعی وقت 13 گھنٹے 34 منٹ ریکارڈ کیا گیا اور حکومت کا کُل وقت 8 گھنٹے 33 منٹ رہا۔

سینیٹ میں پہلے روز 15 جون کو اپوزیشن لیڈر نے 40 منٹ کے خطاب سے بحث کا آغاز کیا، جس کے بعد پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان (15 منٹ)، سینیٹر شہادت اعوان (10 منٹ)، سینیٹر سرمد علی (14 منٹ)، پی ٹی آئی کے سینیٹر محسن عزیز (14 منٹ)، سینیٹر فیصل جاوید (17 منٹ)، سینیٹر عون عباس (14 منٹ)، جے یو آئی کے سینیٹر دلاور خان (11 منٹ)، سینیٹر کامران مرتضیٰ (17 منٹ)، مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ (12 منٹ)، سینیٹر ناصر محمود (7 منٹ)، نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد (15 منٹ) اور اے این پی کے سینیٹر ایمل ولی خان نے 28 منٹ تک خطاب کیا۔ دوسرے روز 16 جون کو پیپلز پارٹی کے سینیٹر ضمیر حسین گھمرو (11 منٹ)، سینیٹر بلال مندوخیل (14 منٹ)، سینیٹر مسرور احسن (18 منٹ)، پی ٹی آئی کے سینیٹر سید علی ظفر (21 منٹ)، سینیٹر ذیشان خانزادہ (15 منٹ)، سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند (16 منٹ)، سینیٹر دوست محمد (11 منٹ)، سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی (18 منٹ)، سینیٹر فلک ناز (15 منٹ)، سینیٹر مشعل اعظم (14 منٹ)، جے یو آئی کے سینیٹر عطا الرحمن (13 منٹ)، سینیٹر عبدالشکور (11 منٹ)، باپ پارٹی کے سینیٹر دنیش کمار (17 منٹ) اور ایم کیو ایم کے سینیٹر امیر چشتی نے 12 منٹ تک اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سینیٹ میں بحث کے تیسرے روز 17 جون کو پیپلز پارٹی کے سینیٹر پونجو (19 منٹ)، سینیٹر دوست علی جیسر (14 منٹ)، سینیٹر رانا محمود الحسن (27 منٹ)، مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عابد شیر علی (21 منٹ)، سینیٹر آغا شاہزیب دررانی (14 منٹ)، پی ٹی آئی کے سینیٹر محمد اعظم سواتی (13 منٹ)، سینیٹر سیف اللہ ابڑو (28 منٹ)، سینیٹر فوزیہ ارشد (16 منٹ)، سنی اتحاد کونسل کے سینیٹر حامد خان (بالترتیب 15، 16 اور 17 منٹ کے سیشنز)، اے این پی کے سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان (14 منٹ) اور مسلم لیگ کے سینیٹر کامل علی آغا نے 30 منٹ تک گفتگو کی۔

چوتھے روز 18 جون کو پیپلز پارٹی کے سینیٹر سید وقار مہدی (12 منٹ)، سینیٹر ندیم بھٹو (11 منٹ)، سینیٹر جام سیف اللہ (10 منٹ)، سینیٹر روبینہ قائم خانی (10 منٹ)، سینیٹر سردار عمر گورگیج (10 منٹ)، سینیٹر اشرف جتوئی (5 منٹ)، سینیٹر محمد طلحہ محمود (10 منٹ)، مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر خلیل طاہر (11 منٹ)، سینیٹر حافظ عبدالکریم (10 منٹ)، سینیٹر بشریٰ انجم بٹ (5 منٹ)، پی ٹی آئی کی سینیٹر روبینہ ناز (10 منٹ)، سینیٹر گردیپ سنگھ (10 منٹ)، سینیٹر خرم ذیشان (10 منٹ)، ایم کیو ایم کی سینیٹر خالدہ عتیب (8 منٹ) اور آزاد سینیٹر اسد عاصم نے 8 منٹ تقریر کر کے بجٹ سیشن کا دائرہ مکمل کیا۔ دونوں ایوانوں کے سربراہان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تمام پارلیمانی لیڈرز اور اراکین کی صائب تجاویز کو فنانس بل کا حصہ بنانے کے لیے متعلقہ وزارتوں کو فوری احکامات جاری کیے جائیں گے۔