قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے مالیاتی بل سے متعلق زیر غور تمام امور پر اپنی سفارشات کو حتمی شکل دیتے ہوئے سیکرٹریٹ کو ہدایت کی کہ انہیں فنانس بل 2026 سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے مالیاتی بل سے متعلق زیر غور تمام امور پر اپنی سفارشات کو حتمی شکل دیدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے مالیاتی بل سے متعلق زیر غور تمام امور پر اپنی سفارشات کو حتمی شکل دیتے ہوئے سیکرٹریٹ کو ہدایت کی کہ انہیں فنانس بل 2026 سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے، جو قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا 29واں اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا، اجلاس میں فنانس بل 2026 پر شق وار غور و خوض کا سلسلہ چھٹے روز بھی جاری رہا۔کمیٹی نے فنانس بل 2026 کی باقی ماندہ شقوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں سے جامع بریفنگ حاصل کی۔ اجلاس میں ٹیکس دہندگان کی تعمیل ، جرمانوں کے نظام، سینٹرل ڈیٹا ہب کے قیام، بینکنگ لین دین کا ڈیٹا ایف بی آر کے ساتھ شیئر کرنے، مالی معلومات کی الگورتھم کی بنیاد پر جانچ ، فیس لیس دائر اختیار اور پیچیدہ ٹیکس آڈٹ کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے سے متعلق مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا۔کمیٹی نے ان اصلاحات کے قانونی، انتظامی اور تکنیکی پہلوں کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے ٹیکس دہندگان، کاروباری برادری اور مجموعی معیشت پر ممکنہ اثرات کا بھی باریک بینی سے تجزیہ کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا مقصد شفافیت، کارکردگی اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کو فروغ دینا ہونا چاہیے، تاہم اس عمل میں آئینی حقوق اور قانون کی پاسداری کرنے والے شہریوں کے مفادات ہر صورت محفوظ رہنے چاہییں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی مرکزی ڈیٹا شیئرنگ نظام کی بنیاد مضبوط قانونی ڈھانچے، سخت رازداری کے اصولوں، موثر ادارہ جاتی نگرانی اور ٹیکس دہندگان کی نجی معلومات کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات عوام کے اعتماد میں اضافے، ٹیکس ادائیگی میں سہولت اور انصاف کے فروغ کا ذریعہ بننی چاہئیں، نہ کہ ٹیکس دہندگان میں بے یقینی یا خوف پیدا کریں۔ کمیٹی نے ٹیکس قوانین میں جرمانوں سے متعلق مجوزہ ترامیم، خصوصا چھپائی گئی آمدن اور اثاثوں سے متعلق دفعات کا بھی جائزہ لیا۔ اراکین نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ بعض مجوزہ سزائیں قانون کی پابندی کرنے والے اور متوسط آمدن رکھنے والے ٹیکس دہندگان پر غیر متناسب بوجھ ڈال سکتی ہیں۔ اس لیے انہوں نے خطرے کی بنیاد پر متوازن اور منصفانہ نفاذ کے نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد شفاف، منصفانہ، متناسب اور قدرتی انصاف کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ دانستہ ٹیکس چوری کے خلاف موثر قانونی کارروائی بھی یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں مختلف ٹیکس تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں ان کے مالیاتی اثرات، نفاذ کے طریقہ کار، متوقع محصولات اور کاروبار، صارفین اور معیشت پر ممکنہ اثرات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس پالیسیوں کا مقصد معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے تعمیل کی لاگت میں کمی ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ کمزور اور کم آمدن والے طبقات کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ایسے مالیاتی اقدامات سے گریز کیا جائے جو مہنگائی میں اضافے یا صنعتی مسابقت پر منفی اثرات کا باعث بنیں۔چیئرمین سید نوید قمر نے کہا کہ ٹیکس پالیسیوں کو منصفانہ، شفاف، قابلِ پیش گوئی اور معیشت کے تمام شعبوں پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پائیدار محصولات کے حصول کا بنیادی ذریعہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اہم ٹیکس اقدامات پر پارلیمانی نگرانی شفافیت، جوابدہی اور جمہوری طرزِ حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔کمیٹی نے وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلی تکنیکی بریفنگ کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کمیٹی کی سفارشات کو مجوزہ قانون سازی کو حتمی شکل دیتے وقت مدنظر رکھا جائے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام اصلاحات مرحلہ وار، شفاف اور مشاورتی انداز میں نافذ کی جائیں، جن کے ساتھ موثر ادارہ جاتی تحفظات، نگرانی کا نظام اور پارلیمنٹ کو باقاعدہ رپورٹنگ بھی یقینی بنائی جائے۔تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے اجلاس میں زیر غور تمام امور پر اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے دی اور سیکرٹریٹ کو ہدایت کی کہ انہیں فنانس بل 2026 سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے، جو قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ فنانس بل 2026 پر غور کا عمل اپنے آئندہ اجلاس میں بھی جاری رکھا جائے گا، جو ہفتہ، 20 جون 2026، صبح 11:30 بجے منعقد ہوگا۔اجلاس میں ارکانِ قومی اسمبلی رانا ارادت شریف خان، علی زاہد، سید سمیع الحسن گیلانی، بلال فاروق تارڑ، محمد عثمان اویسی، زیب جعفر، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، حنا ربانی کھر، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محمد جاوید حنیف خان، ارشد عبداللہ ووہرا اور شاہدہ بیگم نے شرکت کی۔ وفاقی وزیرِ خزانہ، وزیرِ مملکت برائے خزانہ، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری ہوا بازی، ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اراکین، وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کے سینئر حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔








