خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کا اجلاس جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین خصوصی کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کا اجلاس ، خواتین کے تحفظ کیلئے مؤثر قانون سازی پر زور

مزید خبریں
پشاور۔ 19 جون (اے پی پی):خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کا اجلاس جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین خصوصی کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین اصف مسعود اور محترمہ ستارہ آفرین کے علاوہ سیکرٹری قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق، محکمہ قانون کے متعلقہ افسران اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ”کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف ترمیمی بل 2026“ پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ یہ بل 16 اپریل 2026 کو صوبائی اسمبلی کے ایوان کی جانب سے مزید جانچ، مشاورت اور سفارشات کی تیاری کے لیے خصوصی کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا۔ کمیٹی کے اراکین نے بل کی مختلف شقوں، قانونی پہلوؤں اور خواتین کے تحفظ سے متعلق مجوزہ اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس حوالے سے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ سیکرٹری قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون پہلی مرتبہ 2010 میں نافذ کیا گیا تھا، جبکہ بعد ازاں 2021 میں اس کے انتظامی و قانونی معاملات محکمہ قانون کے سپرد کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2025 میں ہراسمنٹ سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے تمام صوبوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے قوانین کو عدالتی احکامات کے مطابق ہم آہنگ بنائیں۔ اسی تناظر میں محکمہ قانون نے موجودہ قانون میں ضروری ترامیم اور اصلاحات تجویز کی ہیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ موجودہ قانون کا اطلاق بنیادی طور پر سرکاری اداروں تک محدود تھا، تاہم مجوزہ ترامیم کے ذریعے اس کا دائرہ کار نجی شعبے تک بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔ بل میں ”ملازم“ اور ”طالب علم“ جیسی اصطلاحات کو شامل کرنے، محتسبِ اعلیٰ کے اختیارات میں توسیع کرنے اور بعض انتظامی امور میں تبدیلی کی تجاویز دی گئی ہیں۔ مجوزہ قانون کے تحت متعلقہ رپورٹس اور سفارشات گورنر کے بجائے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو پیش کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔اجلاس کے دوران رکن اسمبلی اصف مسعود نے تجویز پیش کی کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے مرتکب افراد کے لیے سزاؤں کو مزید مؤثر اور سخت بنایا جائے تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی منیر حسین لغمانی نے محکمہ قانون کو ہدایت کی کہ کمیٹی اراکین کی تمام قابلِ عمل تجاویز کو ترمیمی بل میں شامل کیا جائے تاکہ خواتین کو کام کی جگہ پر محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ اجلاس میں مجوزہ ترمیمی بل کا شق وار اور حتمی جائزہ لے کر سفارشات مرتب کی جائیں گی۔








