ڈی-8 ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ، سیکریٹری جنرل سہیل محمود کی انقرہ میں اہم سرگرمیاں
ڈی-8 ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ، سیکریٹری جنرل سہیل محمود کی انقرہ میں اہم سرگرمیاں

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):ترقی پذیر آٹھ ممالک کی تنظیم برائے اقتصادی تعاون (ڈی-8) کے سیکریٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ ڈی-8 کمیشن کے 51ویں اجلاس اور تنظیم کے قیام کی 29ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، علاقائی انضمام اور پائیدار ترقی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔جمعہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق سفیر سہیل محمود نے 15 سے 17 جون تک انقرہ کا دورہ کیا، جہاں مصر کی زیر صدارت اور ترکیہ کی میزبانی میں منعقدہ کمیشن اجلاس میں تمام رکن ممالک کے اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں تنظیم کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس کے مستقبل کی سمت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کمیشن نے سیکریٹری جنرل کی جانب سے 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران سیکریٹریٹ کی سرگرمیوں پر مشتمل جامع رپورٹ کا جائزہ لیا، جس میں بین الاقوامی شراکت داریوں کے فروغ، شعبہ جاتی تعاون میں توسیع، تنظیم کی نمایاں حیثیت کو اجاگر کرنے اور تجارت، توانائی، سیاحت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، نوجوانوں اور رابطہ سازی کے شعبوں میں اقدامات کی پیش رفت کو نمایاں کیا گیا۔
کمیشن نے جکارتہ میں منعقد ہونے والے ڈی-8 کے 12ویں سربراہی اجلاس کی تیاریوں، اصلاحات اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے کے اقدامات، مالی و انتظامی امور اور ڈی-8 عشرہ روڈ میپ 2020-2030 پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔ کمیشن نے مصر کی جانب سے ڈی-8 ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) اور تنازعات کے تصفیے کے طریقہ کار (ڈی ایس ایم ) کی توثیق کے اعلان کا خیرمقدم کیا، جسے اقتصادی انضمام اور ڈی-8 ممالک کے درمیان تجارت میں اضافے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔دورے کی ایک اہم بات ڈی-8 کے قیام کی 29ویں سالگرہ (15 جون) کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ تقریب تھی، جس کا اہتمام ترک وزارت خارجہ نے کیا۔ تقریب میں کمشنرز، وفود کے سربراہان، سفارت کاروں، اعلیٰ سرکاری حکام، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں، ماہرین تعلیم، کاروباری شخصیات اور سفارتی برادری کے ارکان نے شرکت کی۔
تقریب کی میزبانی نائب وزیر خارجہ سفیر بیرش اکنجی نے کی جبکہ اس موقع پر وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے مرحوم وزیراعظم پروفیسر ڈاکٹر نیکمتین اربکان کی بصیرت افروز قیادت کو خراج عقیدت پیش کیا اور 1997 میں استنبول میں قیام کے بعد سے ڈی-8 کے ارتقائی سفر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ ترقی پذیر ممالک کے ایک پیش قدم اقدام کے طور پر شروع ہونے والی یہ تنظیم اب ایک متحرک بین البراعظمی ادارے کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو 1.28 بلین سے زائد آبادی اور 5.2 ٹریلین امریکی ڈالر سے زیادہ مجموعی قومی پیداوار کی نمائندگی کرتی ہے۔
انہوں نے جغرافیائی سیاسی کشیدگی، اقتصادی غیر یقینی صورتحال، موسمیاتی بحران، تکنیکی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے موجودہ عالمی ماحول میں ڈی-8 کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے جنوبی تعاون، اقتصادی انضمام، پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی روابط کے فروغ میں تنظیم کے کردار کو اجاگر کیا۔سیکریٹری جنرل نے حالیہ کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے آذربائیجان کی نویں رکن ریاست کے طور پر شمولیت، باکو میں ڈی-8 وزرائے توانائی کے پہلے اجلاس کے انعقاد، عالمی شہری فورم کے موقع پر ڈی-8 اعلیٰ سطحی توانائی و شہری مکالمے اور آذربائیجان میں ڈی-8 انرجی اینڈ کلائمیٹ سینٹر، ڈی-8 ٹرانسپورٹ ایکسیلنس سینٹر اور ڈی-8 میڈیا ایکسیلنس سینٹر کے قیام کے اقدامات کا حوالہ دیا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے نظام اور علاقائی تنظیموں بشمول ایف اے او، کامسٹیک، کامسیٹس، او ٹی ایس اور بی ایس ای سی کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کو بھی نمایاں کیا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیکریٹریٹ رکن ممالک کے ساتھ مل کر ایک مضبوط، متحرک اور مستقبل پر مبنی ڈی-8 کی تشکیل کے لیے کام جاری رکھے گا، جو اپنے عوام کو عملی فوائد فراہم کرنے کے ساتھ عالمی امن، ترقی اور خوشحالی میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔
کمیشن اجلاس کے موقع پر سیکریٹری جنرل نے ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین اور سابق نائب صدر سے بھی اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ ملاقات میں علاقائی و عالمی صورتحال، 12ویں ڈی-8 سربراہی اجلاس کی تیاریوں اور رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے مزید فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیکریٹری جنرل نے تنظیم اور اس کے بانی وژن کے لیے ترکیہ کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
سیکریٹری جنرل نے ترک تعاون و رابطہ ایجنسی (ٹیکا) کے صدر عبداللہ ایرن سے بھی ملاقات کی، جس میں ترقیاتی معاونت، استعداد کار میں اضافے، ڈیجیٹل تبدیلی، ای گورننس، نوجوانوں اور خواتین کی کاروباری سرگرمیوں، زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر رکن ممالک کی ترقیاتی ایجنسیوں کے درمیان تعاون اور مشترکہ ترقیاتی اقدامات کے فروغ کے لیے ایک مخصوص پلیٹ فارم کے قیام پر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
ایک الگ ملاقات میں KOSGEBکے صدر کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، کاروباری سرگرمیوں، اختراع، ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اسٹارٹ اپ نظام کے فروغ میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے استعداد کار بڑھانے کے پروگراموں، اختراعی مراکز اور ٹیکنوپارکس کے درمیان تعاون اور ایس ایم ایز کی مالی معاونت و علاقائی ویلیو چین کے انضمام کے لیے ممکنہ طریقہ کار پر غور کیا۔
پریس ریلیز کے مطابق کمیشن کا 51واں اجلاس جہاں ڈی-8 کے وسیع تر ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں اہم ثابت ہوا وہیں سیکریٹری جنرل کی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین اور انقرہ میں دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتوں نے ترقی، کاروباری سرگرمیوں، اختراع اور پائیدار اقتصادی ترقی کے شعبوں میں عملی تعاون کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔







