ایس ای سی پی کی پاکستان کے پہلے فنانشل سروسز ڈسپیوٹ ریزولوشن سینٹر کے قیام کے منصوبے پر پیش رفت

ایس ای سی پی کی پاکستان کے پہلے فنانشل سروسز ڈسپیوٹ ریزولوشن سینٹر کے قیام کے منصوبے پر پیش رفت

اسلام آباد۔20جون (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے پاکستان کے پہلے فنانشل سروسز ڈسپیوٹ ریزولوشن سینٹر کے قیام کے منصوبے پر پیش رفت کرتے ہوئے اسلام آباد میں تمام اہم اسٹیک ہولڈر کا مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔اجلاس میں عدلیہ، وکلاء،وزارت قانون کے عہدیداران ، فنانشل سیکٹر کے ریگولیٹرز اور کارپوریٹ اداروں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی ، نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ ، میوچل فنڈزایسوسی ایشن ، انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔یہ مشاورتی اجلاس امریکی محکمہ تجارت کے کمرشل لا ڈویلپمنٹ پروگرام اور سنگاپور کے فنانشل انڈسٹری ڈسپیوٹ ریزولوشن سینٹر کے تعاون سے منعقد کیاگیا۔

امریکہ کا کمرشل لا ڈویلپمنٹ پروگرام مجوزہ فنانشل ڈسپیوٹ ریزولوشن سینٹر کے قیام میں بھی تعاون کر رہا ہے۔مجوزہ فنانشل ڈسپیوٹ ریزولوشن سینٹر ایک آزاد، خصوصی نوعیت کاون ونڈو اور غیر منافع بخش ادارہ ہوگا جو ایس ای سی پی کی نگرانی میں کام کرے گا۔ اس کا مقصد مالیاتی شعبے سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے صارفین، سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کو تیز، کم لاگت اور آسان رسائی پر مبنی خدمات فراہم کرنا ہے۔کنسلٹیشن سیشن کا آغاز کرتے ہوئے ایس ای سی پی کے کمشنر مظفر احمد مرزا نے کہا کہ کسی بھی فنانشل سسٹم کےمستحکم ہونے کا انحصار صرف اس کی مؤثر کارکردگی پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ کاروباری اختلافات اور مسائل پیدا ہونے کی صورت میں ان تنازعات کو کس حد تک منصفانہ، بروقت اور کم لاگت میں حل کیا جاتا ہے۔

انہوں نے فنانشل مارکیٹوں پر عوامی اعتماد بڑھانے کے لیے مؤثر اور تنازعات کے قابلِ رسائی حل کے نظام کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر کمرشل لا ڈویلپمنٹ پروگرام کے حکام نے تنازعات کے حل سے متعلق بین الاقوامی تجربات سے آگاہ کیا اور مجوزہ مرکز کے ادارہ جاتی ڈھانچے اور استعدادِ کار کی تعمیر میں ایس ای سی پی کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔فائیڈریک کے نمائندوں نے سنگاپور کے کامیاب ڈسپیوٹ ریزولوشن ماڈل کے بارے میں تفصیل سے بریفنگ دی ۔

انہوں نے کہا کہ اس تجربے سے پاکستان کے مالیاتی شعبے کے لیے اہم رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔سیشن کے اختتام میں ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ دنیا بھر میں ثالثی اب آخری آپشن کے بجائے تنازعات کے حل کا پہلا مرحلہ بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی اصلاحات اور عدالتوں کی سپورٹ کے ذریعے لازمی ثالثی کے نظام سے مقدمات کے اخراجات میں کمی، ریکوری کے عمل میں تیزی، نفاذ کے بہتر نتائج اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ممکن ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس (ر) مشیر عالم اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی ثالثی عدالتوں کے متبادل کے بجائے ان کی معاون ثابت ہوگی، جس سے مقدمات کا بوجھ کم ہوگا، کاروباری تعلقات برقرار رہیں گے اور عام شہریوں کے لیے انصاف تک رسائی آسان ہوگی۔شرکاء نے مجوزہ ڈسپیوٹ ریزولوشن سینٹر کے قیام کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔

مزید خبریں