تمام مکاتبِ فکر کے قائدین کی پیغامِ پاکستان ضابطۂ اخلاق کی توثیق، پرامن محرم کیلئے بھرپور تعاون کا اعادہ
تمام مکاتبِ فکر کے قائدین کی پیغامِ پاکستان ضابطۂ اخلاق کی توثیق، پرامن محرم کیلئے بھرپور تعاون کا اعادہ

مزید خبریں
گوجرانوالہ۔20جون (اے پی پی):تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء، مشائخ اور مذہبی قائدین نے پیغامِ پاکستان ضابطۂ اخلاق کی مکمل توثیق کرتے ہوئے محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں امن و امان، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا اعلان کیا ہے۔یہ اعلان قومی پیغامِ امن کمیٹی کی اپیل پر صوبائی پیغامِ امن کمیٹی پنجاب کے زیر اہتمام، پاکستان علماء کونسل گوجرانوالہ کے تعاون سے منعقدہ بین المسالک امن سیمینار میں کیا گیا، جس میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام، مذہبی رواداری، بین المسالک ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سیمینار سے چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے لیے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مولانا قاضی ضیاء محسن اعوان، حاجی محمد یوسف کھوکھر، علامہ کاظم ترابی، مولانا زبیر کھٹانہ، علامہ خالد حسن مجددی، حافظ مقبول احمد، مفتی کامران ہزاروی، مولانا عثمان بٹ، قاضی عظمت اللہ، قاری ارشد محمود صفدر اور دیگر مکاتبِ فکر کے نمائندہ علماء و مشائخ نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ محرم الحرام کا مقدس مہینہ امت مسلمہ کو اتحاد، صبر، برداشت، قربانی، اخوت اور باہمی احترام کا درس دیتا ہے، اس لیے تمام مکاتبِ فکر پر لازم ہے کہ وہ ملی یکجہتی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ڈیکلریشن بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور عالمی امن کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جبکہ "اپنا مسلک چھوڑو نہیں، دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہیں” کا سنہری اصول ہی ملک میں پائیدار امن، استحکام اور قومی اتحاد کی بنیاد ہے۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کوئی بھی دشمن طاقت اسے پاکستان سے جدا نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ محرم الحرام کے تقدس کے پیش نظر اپنا احتجاج ختم کرکے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی راہ اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ محرم الحرام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اختلافات کے باوجود قومی اور دینی معاملات میں اتحاد برقرار رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، کیونکہ پاکستان دشمن قوتیں مسلسل فرقہ واریت، نفرت اور انتشار پھیلانے کی سازشوں میں مصروف ہیں تاہم قوم کے اتحاد، علماء کرام کی ذمہ دارانہ قیادت اور ریاستی اداروں کی مؤثر حکمت عملی سے ان کے تمام ناپاک عزائم ناکام بنائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ضابطۂ اخلاق پر تمام مکاتبِ فکر مکمل عملدرآمد کر رہے ہیں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی، امن و امان اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال یا شرپسندانہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔انہوں نے سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض شرپسند عناصر جھوٹی خبروں، اشتعال انگیز ویڈیوز، آڈیوز اور فرقہ وارانہ مواد کے ذریعے نفرت اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، لہٰذا عوام خصوصاً نوجوان نسل غیر مصدقہ معلومات اور اشتعال انگیز مواد کو ہرگز شیئر نہ کریں بلکہ ایسے عناصر کی نشاندہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کریں۔
انہوں نے کہا کہ محرم الحرام حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ حسینی کردار ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانے کا نام ہے، جبکہ یزیدی سوچ امت مسلمہ میں نفرت اور تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ہمیں حضرت امام حسینؓ کے صبر، عدل، حق گوئی اور قربانی کے پیغام کو عام کرتے ہوئے امت کے اتحاد کو مضبوط بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض گمراہ عناصر نے جہاد کے نام پر بے گناہ انسانوں کے قتل کو جائز قرار دینے کی کوشش کی، حالانکہ حقیقی جہاد وہی ہے جس کی تعلیم نبی کریم ﷺ نے دی اور جس کی روشن مثالیں غزواتِ بدر، خیبر اور واقعۂ کربلا میں ملتی ہیں۔
اسلام امن، محبت، رواداری اور انسانی جان کے احترام کا دین ہے اور دہشت گردی یا انتہا پسندی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔سیمینار کے مقررین نے ملک میں فرقہ واریت کے خاتمے، قومی یکجہتی کے فروغ، بین المسالک ہم آہنگی، پاکستان کی علاقائی امن کوششوں اور ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے لیے پاکستان کے مؤثر سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے اسے عالمی سطح پر پاکستان کی ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پاک افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قومی سلامتی کے تمام اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے، محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور ملک میں مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور قومی اتحاد کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔








