اقوام متحدہ کا ایڈزکے خلاف عالمی جنگ تیز کرنے کے لیے سیاسی عزم پر زور

اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ ایڈز کے خلاف جاری جدوجہد کو تیز کرنے اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مضبوط سیاسی عزم کا مظاہرہ کیا جائے۔

اقوام متحدہ ۔23جون (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ ایڈز کے خلاف جاری جدوجہد کو تیز کرنے اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مضبوط سیاسی عزم کا مظاہرہ کیا جائے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، سیکریٹری جنرل کا پیغام نائب سیکریٹری جنرل امینہ محمد نے پڑھ کر سنایا۔ گوتریس نے کہا کہ یہ اجلاس ایسے عملی حل تلاش کرنے اور عالمی سطح پر سیاسی عزم کو دوبارہ متحرک کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے تاکہ ایچ آئی وی کے خلاف جنگ کو کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ایڈز کے پہلے کیس کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد گزشتہ 45 برسوں کے دوران دنیا نے غیر معمولی عزم اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، حالانکہ یہ سفر آسان نہیں تھا۔

گوتریس کے مطابق حکومتوں کی سیاسی وابستگی اور عالمی شراکت داروں کی سرمایہ کاری کے نتیجے میں 2004 کے مقابلے میں ایڈز سے ہونے والی اموات میں 70 فیصد اور 2010 کے مقابلے میں 54 فیصد کمی آئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام اور علاج سے متعلق خدمات کی بدولت 2010 سے اب تک نئے انفیکشنز میں 40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اس وقت دنیا بھر میں 3 کروڑ 20 لاکھ سے زائد ایچ آئی وی متاثرہ افراد جان بچانے والی اینٹی ریٹرو وائرل ادویات حاصل کر رہے ہیں۔تاہم سیکرٹر ی جنرل نے خبردار کیا کہ ایڈز کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق 2024 کے اختتام تک 92 لاکھ افراد ایسے تھے جنہیں ایچ آئی وی کے علاج کی ضرورت تھی، مگر انہیں مناسب طبی سہولیات میسر نہیں تھیں۔

انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے پانچ اہم ترجیحات پیش کیں، جن میں روک تھام، علاج اور نگہداشت کی سہولیات تک رسائی میں موجود خلا کو ختم کرنا، ایچ آئی وی کے خلاف اقدامات میں مقامی کمیونٹیز کی قیادت کو برقرار رکھنا، انسانی حقوق کا تحفظ، مالی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانا اور کثیرالجہتی تعاون کے جذبے کو دوبارہ فروغ دینا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کے خلاف عالمی ردعمل نے ثابت کیا ہے کہ سرحدوں اور مختلف شعبوں کے درمیان یکجہتی کے ذریعے خوف، عدم مساوات اور ناانصافی جیسے چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی، علاقائی اور مقامی اداروں کے باہمی تعاون کی اہمیت بھی واضح ہوئی ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی برادری سائنس، انسانی وقار، یکجہتی اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کے تحت دوبارہ متحد ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2030 تک ایڈز کو عوامی صحت کے لیے خطرہ بننے سے روکنے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔