وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے فاٹا کے عوام پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ فیصلہ واپس لیا جائے اور پہلے ان علاقوں کو بنیادی سہولیات، ترقیاتی منصوبے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی فاٹا کے عوام پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے فاٹا کے عوام پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ فیصلہ واپس لیا جائے اور پہلے ان علاقوں کو بنیادی سہولیات، ترقیاتی منصوبے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام پہلے ہی متعدد مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے حالات میں مزید ٹیکس عائد کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام کے تحفظات وزیراعظم کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں اور امید ہے کہ ان پر مثبت غور کیا جائے گا۔امیر مقام نے کہا کہ نئے ٹیکسوں کا بوجھ عام دکانداروں اور تنخواہ دار طبقے پر پڑے گا، جبکہ انضمام شدہ علاقوں میں ترقیاتی کام، تعلیمی و طبی سہولیات اور امن و امان کی صورتحال اب بھی مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ سکی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام کو احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے اور پسماندہ علاقوں پر مزید مالی بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے۔
وفاقی وزیر نے وزیراعظم اور آرمی چیف سے اپیل کی کہ فاٹا کے عوام کے لیے خصوصی رعایت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام ٹیکسوں کے مخالف نہیں بلکہ ناانصافی کے خلاف ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر یکساں مؤقف رکھتی ہیں۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء زاہد خان نے کہا کہ ملاکنڈ کے انضمام کے وقت ٹیکس نافذ نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جبکہ فاٹا کے لیے سالانہ ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کے وعدے بھی مکمل طور پر پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے نافذ ٹیکس اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم مزید ٹیکسوں کا نفاذ کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ انضمام شدہ علاقوں میں ہسپتالوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ امن و امان کے مسائل بھی برقرار ہیں، لہٰذا ایسے حالات میں مزید محصولات عائد کرنا عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔
آزاد کشمیر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں امیر مقام نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ وفاداری کے حلف سے متعلق بعض حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والی تجاویز ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ وفاداری کے حلف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور حلف سے پاکستان کا نام نکالنے کی ہر تجویز مسترد کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نام ختم کرنے کی سوچ قومی مفادات کے خلاف ہے اور پاکستان و کشمیر کے تاریخی، مذہبی اور جذباتی رشتے کو کمزور کرنے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ اپنے عہد پر قائم ہیں اور دونوں کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بروقت انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا، عوامی نمائندوں کی حکومت قائم ہوگی اور خطے میں امن، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔








