وزارتِ قومی صحت میں انٹیگریٹڈ ٹاسک مینجمنٹ سسٹم کا آغاز

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر وزارتِ قومی صحت اور اس کے ماتحت اداروں میں مؤثر ای گورننس کے فروغ کے لیے انٹیگریٹڈ ٹاسک مینجمنٹ سسٹم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر وزارتِ قومی صحت اور اس کے ماتحت اداروں میں مؤثر ای گورننس کے فروغ کے لیے انٹیگریٹڈ ٹاسک مینجمنٹ سسٹم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کی زیر صدارت وزارتِ صحت کے ماتحت اداروں کے سربراہان کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں افسران کو نئے انٹیگریٹڈ ٹاسک مینجمنٹ سسٹم کے مختلف پہلوؤں اور اس کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل نظام کا فروغ ناگزیر ہے اور وزارتِ صحت میں متعارف کرایا گیا نیا انٹرنل ٹاسک مینجمنٹ سسٹم شفافیت، کارکردگی اور مؤثر حکمرانی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹاسک مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے وزارت کے تمام کام آن لائن، واضح اور قابلِ نگرانی ہوں گے جبکہ ہر ٹاسک کی پیش رفت، ذمہ داری اور تکمیل کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق وزارت کے تمام احکامات اور ہدایات کو ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کر دیا گیا ہے۔مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ نظام کے تحت ایک ریئل ٹائم ڈیش بورڈ فراہم کیا گیا ہے جس کے ذریعے تفویض کردہ ٹاسکس کی پیش رفت کسی بھی وقت ایک ہی پلیٹ فارم پر دیکھی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی تفویض کردہ ٹاسکس کی براہ راست مانیٹرنگ کریں گے تاکہ مقررہ اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ یہ اقدام وزارتِ صحت کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور پیپر لیس نظام کی جانب لے جانے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ تمام امور ٹاسک مینجمنٹ سسٹم کے تحت چلائے جائیں گے اور اسی بنیاد پر جوابدہی، کارکردگی کے جائزے اور انعام و سزا کا تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے نظام کے نفاذ سے روایتی طریقہ کار میں نمایاں کمی آئے گی اور سرکاری امور کی انجام دہی میں رفتار اور شفافیت بڑھے گی۔ وزیر صحت نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اس نئے نظام کو مکمل سنجیدگی سے اپنائیں اور اس کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کے شفافیت، مؤثر حکمرانی اور جدید ڈیجیٹل نظام کے فروغ کے وژن کے عین مطابق ہے۔