ریویژنل دائرہ اختیار کے دوران ہائی کورٹ کیس کی بنیادی نوعیت تبدیل نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ
ریویژنل دائرہ اختیار کے دوران ہائی کورٹ کیس کی بنیادی نوعیت تبدیل نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ
اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ریویژنل دائرہ اختیار کے دوران ہائی کورٹ کسی بھی مقدمے کی بنیادی نوعیت تبدیل نہیں کر سکتی اور نہ ہی ایسا ریلیف دے سکتی ہے جو فریقین کی درخواست میں شامل نہ ہو۔
سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل بینچ نے سول اپیل نمبر 328 آف 2018 میں سنایا جس میں نیلامی کے تحت خشک درختوں کی منسوخی سے متعلق تنازع زیر سماعت تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ آرڈر VII رول 7 سی پی سی کے تحت ریلیف میں لچک موجود ہے تاہم اس کا مقصد مقدمے کی نوعیت کو تبدیل کرنا نہیں بلکہ صرف اسی حد تک ریلیف دینا ہے جو pleadings اور ثابت شدہ حقائق سے مطابقت رکھتا ہو۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فریقین کی جانب سے مقررہ مدت میں نیلامی کی بقایا رقم جمع نہ کرانے کے باعث معاہدہ قانونی طور پر قابل نفاذ نہیں رہا۔
فیصلے کے مطابق ہائی کورٹ کا مخصوص کارکردگی (specific performance) کا حکم اختیار سے تجاوز کے مترادف تھا، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا گیا۔اپیل منظور کر لی گئی جبکہ اخراجات کے حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔









