گورنر خیبرپختونخواسے 46ویں میڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے وفد کی ملاقات
گورنر خیبرپختونخواسے 46ویں میڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے وفد کی ملاقات

مزید خبریں
پشاور۔ 23 جون (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے 46ویں میڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے وفد نے گورنر ہاوس پشاور میں ملاقات کی۔تر جمان گورنر ہائوس پشاور کے مطابق ملاقات میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، پولیس اور ایف سی مسلسل حالتِ جنگ میں فرائض انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا افغانستان کی سرحد پر واقع ہے، جہاں غیر ملکی مداخلت اور چھوڑا گیا اسلحہ دہشت گردی میں استعمال ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو جس جنگ کی تربیت نہیں، وہی پولیس آج فرنٹ لائن پر لڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان شہریوں کی دہشت گردی میں مبینہ شمولیت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے بارہا دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، تاہم خاطر خواہ تعاون نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ سرحدی بندش سے دونوں ممالک کو معاشی نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی واپسی کا عمل شروع کیا گیا ہے،دنیا میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو رہائش کی اجازت نہیں دی جاتی۔
انہوں نے کہا کہ قانونی طریقہ کار سے آنے والے افغان باشندوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کی جارحیت کا پاکستان نے موثر جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی دباؤ کے باعث جنگ بندی ممکن ہوئی جس کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایران، اسرائیل اور امریکا کشیدگی کے دوران پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا،پاکستان کی سفارتکاری کے باعث خطے میں بڑے تنازع سے بچاؤ ممکن ہوا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک میں سستی ترین بجلی پیدا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کو مہنگی بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک میں سب سے زیادہ تیل اور گیس پیدا کرنے والے صوبوں میں شامل ہے،صوبے میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاحت اور کھیلوں کے شعبوں میں خیبرپختونخوا میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ صوبے میں تعلیمی ادارے بڑھ رہے ہیں تاہم فنڈز کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں یونیورسٹیوں کو مالی مسائل اور تنخواہوں و پنشن کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی و اپوزیشن جماعتیں وفاق سے حقوق کے لیے مشترکہ موقف رکھتی ہیں، تاہم حکومتی سطح پر مکمل تعاون نہیں مل رہا۔
انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کو اپنا حق نہیں ملتا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بھی قبائلی اضلاع کو ملنے والی رقم کو صحیح طرح خرچ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ مربع کلومیٹر ہمارا صوبہ ہے فاٹا انضمام کے بعد آبادی بھی بڑھ گئی ہے نیا این ایف سی ایوارڈ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی صوبہ نے صوبائی فنانس کمیشن نہیں کرایا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی نے اس حوالہ سے کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ میں آئل ریفائنری اور فرٹیلائزرز انڈسٹری کے قیام کے لئے او جی ڈی سی ایل سے بات چیت کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبہ میں معدنیات میں مقامی کمیونٹی کو شیئر دیا جائے ۔








